ابنا: ذرائع کے مطابق روس کے وزیرخارجہ نے شام میں مخالفین کو مسلح کئے جانے پر اپنے ملک کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے اس قسم کے اقدامات کے نتائج پر بارہا خبردار کیا جب کہ امریکہ، ایسا کرنے کے بجائے شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرسکتا تھا۔ لاوروف نے عراق کے ساتھ بھی روس کے تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کے گذشتہ سال کے دورۂ ماسکو میں کئی اہم سمجھتوں پر دستخط ہوئے تھے جو تمام بین الاقوامی معیارات و قوانین کے مطابق تھے۔انھوں نے کہا کہ ان سمجھوتوں میں عراق کو ہتھیار فراہم کیا جانا بھی شامل ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ روس کے تعاون سے عراق میں دفاعی بنیاد کی تقویت اور اس ملک کے اقتدار اعلی کے مستحکم ہونے کا باعث بنے گا۔
.......
/169