اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ منامہ کے مغربی علاقے المقشع میں ایک کار کو آگ لگنے سے دو بحرینی جوان زندہ زندہ جل کر راکھ ہو گئے جبکہ دیگر ۳ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے وابستہ میڈیا نے اس حادثہ کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہونے کے بارے میں شک و تردید کا اظہار کیا ہے جبکہ بحرینی انقلابیوں کے مطابق ممکن نہیں کہ عام حالت میں کار کو آگ لگنے سے اس میں موجود افراد کی یہ حالت ہو جائے کہ وہ خود کو نہ بچا سکیں اور ان کی جلی بھنی ہڈیاں باہر نکالی جائیں۔
اس بارے میں حکومت مخالف افراد میں سے ایک شخص قاسم الہاشمی کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کے گماشتوں کا کام ہے کہ وہ اس طرح سے اس ملک میں انقلابیوں کو ہدف بنا رہے ہیں اور انہوں نے ان جوانوں کو زندہ زندہ کار کے اندر جلا دیا ہے۔
الہاشمی کا کہنا ہے کہ گاڑی میں لگی آگ معمولی حادثہ نہیں تھا یا اس کی مکینیکل خرابی کی وجہ سے نہیں تھی چونکہ اگر ایسا ہوتا تو اس میں بیٹھے افراد ضرور خود کو بچانے کی کوشش کرتے اور گاڑی سے باہر چھلانگ مارتے بلکہ گاڑی کا ایک دم آگ کی لپیٹ میں آجانا کسی بیرونی عامل کی وجہ سے ہے۔
حکومت مخالف افراد کا کہنا ہے کہ اس حادثہ سے پہلے اس علاقے میں آل خلیفہ کے گماشتے موجود تھے اور اس علاقے کے انقلابیوں کو سیاسی حکومت مخالف فعالیتیں انجام دینے سے روکنے کے لیے زہریلی گیس کا استعمال کر رہے تھے۔
احتمال قوی پایا جاتا ہے کہ بحرین کے ان دو انقلابی جوانوں شہید ’’علی عباس‘‘ اور شہید ’’احمد عبد الرسول‘‘ کی شہادت کا باعث آل خلیفہ کے مزدور رہے ہوں۔
بحرین کے انقلابیوں کا کہنا ہے کہ علی عباس اور احمد عبد الرسول بھی انہیں شہداء کی کڑی ہیں جنہوں نے اس ملک کی ڈکٹیٹر حکومت کی سرنگونی کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
واضح رہے کہ علی عباس اور احمد عبد الرسول کی شہادتوں کے ساتھ شہدائے انقلاب کرامت کی تعداد ۱۲۵ ہو گئی ہے۔




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲