31 مارچ 2014 - 07:04
آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی بحرینی میڈیا پر کڑی تنقید نیز شیعہ سنی کو ہوشیار رہنے پر تاکید

بحرین کی شیعہ علماء کونسل کے سربراہ شیخ عیسی قاسم نے اس ہفتے نماز جمعہ کے خطبے میں بحرینی میڈیا کی سازشوں کو فاش کرتے ہوئے تمام شیعہ سنی قوم کو ان پروپیگنڈوں اور سازشوں کی نسبت ہوشیار رہنے کی تاکید کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رسا نیوز کے مطابق، بحرین کے شیعہ رہنما آیت الله شیخ عیسی قاسم نے اس ہفتہ نماز جمعہ کے خطبہ میں جو بحرین کے شھر’’دراز‘‘ کی مسجد امام صادق(ع) میں سینکڑوں مومنین کی شرکت میں منعقد ہوئی، آل ‎خلیفہ میڈیا کو فتنہ پرور اور مفسد میڈیا بتاتے ہوئے کہا: میں شیعہ اور سنی باشندوں سے اس میڈیا کی باتوں میں نہ آنے اور اس کے تحت تاثیر قرار نہ پانے کے سلسلہ میں شکر گزار ہوں، حکومتی میڈیا اپنے بیانات، پیغامات، اشعار، تصویروں، رقیق کلمات اور فضولیات کے ذریعہ اپنے مقاصد کی تکمیل کر رہا ہے ۔
انہوں ںے آل خلیفہ میڈیا پر اسلامی اتحاد شکنی اور فتنہ پروری کی الزام لگاتے ہوئے کہا: آل خلیفہ میڈیا داخلی جنگ کے اغاز تک خاموش نہیں رہ سکتا، یہ لوگ بحرین کی گلی کوچوں میں خوف و وحشت کا سماں بنانا چاہتے ہیں، بحرین کی گلیوں اور سڑکوں کو خون سے رنگین کرنا چاہتے ہیں تاکہ بحرین میں صدیوں تک دشمنی و نفرت کے جذبات باقی رہ سکیں، اور وہ چین و سکون کے ساتھ لوگوں پر حکومت کرسکیں ۔
آیت الله عیسی قاسم نے مزید کہا: حکمراںوں نے میڈیا کو ملت کے اتحاد و یکجہتی میں دراڑ ڈالنے کی غرض سے استعمال کرنا شروع کردیا ہے اور وہ اس طرح شیعہ و سنی دونوں ہی کو ایک دوسرے کے خلاف اور اپنے مقاصد کی پورا کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔
بحرین کے شیعہ رہنما نے ملت بحرین کو اتحاد و یکجہتی کے ذریعہ اس سازش سے مقابلہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا: آپ سے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس گھناونی سیاست کے مقابلے میں ہوشیار رہیں اور ھرگز ظالم حکومت کے دھوکے میں نہ آئیں، اہل سنت برادران ہوشیار رہیں کہ شیعوں کو آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔
انہوں ںے موجودہ حالات میں عالم اسلام کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: عرب اور اسلامی ممالک کے حالات مکمل طور سے غاصب صھیونیت کے مفاد میں ہیں اور صھیونیت اپنے اھداف کی تکمیل میں مصروف ہے ۔
آیت الله شیخ عیسی قاسم نے موجوہ حالات کی بنسبت خبردار کرتے ہوئے کہا: اگر عرب اور ملت اسلامیہ موجودہ صورت حال سے روبرو رہی تو ہم غزہ، قدس اور فلسطین کو عالم اسلام کے ہاتھوں سے کھو دیں گے۔
اس بحرینی شیعہ عالم دین نے موجودہ حالات میں عرب لیگ کانفرنس کے انعقاد کی جانب اشارہ کیا اور کہا: شرارتوں پر اتحاد تفرقہ افکنی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اور اسلامی افکار و نظریات سے بھی مختلف ہے، اور اگر یہ طے تھا کہ اس نشست میں کسی کی مذمت کی جائے تو دھشت گردی اور تکفیریوں کی سب سے پہلے مذمت کی جانا چاہئے تھی ۔
انہوں نے مزید یاد دہانی کرائی کہ عرب لیگ کانفرنس میں دھشت گردی کی مذمت کی جانی چاہئے تھی اور اس سلسلہ میں کسی قسم کا جانبدارانہ رویہ بھی اختیار نہیں کیا جانا چاہئے تھا، ملتوں کے قانونی حقوق کی تکمیل اور ظالم حکومتوں کا محاکمہ اس نشست کا حصہ ہونا چاہئے تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

لیبلز