ابنا: لبنان کی العہد نیوز ایجینسی کی رپورٹ کے مطابق مکہ کے امیر مشعل بر عبداللہ نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ "عبداللہ بن عبدالعزیز" نے فرقہ وارانہ کشیدگی میں کمی لانے اور دھشتگردوں کو کمزور کرنے کے لئے اس ملک کی مساجد کے خطیبوں کو ہر قسم کی سیاسی گفتگو کرنے سے روک دیا ہے۔ "مشعل بن عبداللہ" نے مزید کہا کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عالم اسلام کو بنیادی اختلافات کا سامنا ہے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے ،خطیبوں کو فرقہ وارانہ و سیاسی اختلافات گفتگو سے منع کرنے پر سعودی عرب کے بادشاہ کا حکم ، مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مکہ کے امیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے بادشاہ کی جانب سے ایک چار جانبہ کمیٹی تشکیل دی ہے کہ جو ملک کے اندر و باہر منجملہ یمن ، شام اور عراق میں سرگرم دھشتگردوں کا پتہ لگا کر ان کو سزائیں دے گی۔ یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ سعودی عرب فکری و نظریاتی طور پر وھابیت کا ایک مرکز اور افغانستان ، پاکستان ، یمن ، شام ، لبنان ، عراق اور دنیا کے دیگر ملکوں میں تکفری گروہوں اور دھشتگردوں کا اصلی حامی ملک ہے۔......./169
4 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 511439
سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنے ملک کے خطیبوں کو سیاسی مسائل پر گفتگو کرنے سے منع کردیا ہے۔