ابنا: شامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مسلح باغیوں کی جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کے باوجود 800 شہریوں کو حمص کے پرانے علاقے سے باہر نکال کیا گیا ہے۔
حمص کے گورنر طلال بارزائی اور ہلال احمر کے اہل کاروں نے بتایا ہے کہ جمعہ سے شروع ہوئی سہ روزہ امدادی کارروائی کی مدت کو بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے، جسے اقوام متحدہ کے توسط سے شامی حکومت اور بیرونی حمایت یافتہ شدت پسندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں طے کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ سنیچر کو حمص میں امدادی کارروائی کے وقت مسلح باغیوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں شامی ہلال احمر کا ایک ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا جبکہ ہلال احمر کے سات اور اقوام متحدہ کے تقریباً اتنے ہی اہل کار حمص شہر میں کئی گھنٹے محصور رہے۔
بارزائی نے کہا ہے کہ ان رپورٹوں کے باوجود کہ پرانے شہر کی سڑکوں پر عسکری پسندوں نے بارودی سرنگیں نصب کی ہوئی ہیں، امدادی سامان حمص پہنچ چکا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گھات لگا کر گولیاں چلانے کے واقعات کے باعث، امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہنگامی امدادی کام کی رابطہ کار، ولیری اموس نے کہا ہے کہ انھیں یہ سن کر مایوسی ہوئی ہے کہ امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر ہدف بنایا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2012ء کے وسط سے اب تک حمص میں عسکریت پسندوں کے قبضے میں 2500 افراد تھے۔
.......
/169