ابنا: یورو نیوز کے صحافی نے جب ان سے یہ پوچھا کہ کیا ایران بھی شمالی کوریا کی طرح اپنے ایٹمی پروگرام کا رخ موڑسکتا ہے، تو یوکیا امانونے کہا کہ ایران اور شمالی کوریا کے درمیاں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے اور یہ بھی نظر میں رکھنا چاہیئے کہ ایران، این پی ٹی معاہدہ کا رکن ملک ہے۔ یوکیا امانو نے کہا کہ ایران میں آئي اے ای اے کے معائنہ کار موجود ہیں اور ایرانی حکام نے بھی ہمیشہ اس بات پر تاکید کی ہے کہ ان کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔ انہوں نے ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی پروگراموں کے درمیاں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا، این پی ٹی معاہدے سے خارج ہوگيا ہے اور اس نے آئي اے ای اے کے تمام معائنہ کاروں کو ملک سے نکال دیا ہے نیز اس کے پاس ایٹم بم بھی موجود ہے بنابریں ان دونوں ملکوں کو ایک جیسا نہيں سمجھنا چاہیئے۔ امانو نے دعوی کیا کہ ان کی ایجنسی ایران کو کسی چيز کے حصول یا کسی چیز سے منع کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے بلکہ صرف یہ اطمینان حاصل کرنا چاہتی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے۔
.......
/169