18 اگست 2026 - 15:27
فائننشال ٹائمز: ٹرمپ کے دور میں اکثریت امریکیوں کی مالی حالت بگڑ گئی

فائننشال ٹائمز کے تازہ سروے کے مطابق 53 فیصد سے زائد امریکی ووٹرز کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی مالی حالت پہلے سے خراب ہوئی ہے، جبکہ تقریباً دو تہائی امریکی معیشت کو غلط سمت میں جاتا دیکھ رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فائننشال ٹائمز کی جانب سے 17 اگست 2026 کو جاری کیے گئے سروے میں 53 فیصد سے زائد رجسٹرڈ امریکی ووٹرز نے کہا کہ جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت شروع ہونے کے بعد ان کی مالی صورتحال بگڑ گئی ہے۔

آزاد ووٹرز میں یہ شرح تقریباً 57 فیصد ہے، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں بھی تقریباً ایک چوتھائی افراد نے اپنی مالی حالت خراب ہونے کی بات کہی ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً دو تہائی امریکی ووٹرز سمجھتے ہیں کہ ملک کی معیشت غلط سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، جو امریکی عوام میں معاشی صورتحال کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔

ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی سے 55 فیصد ووٹرز نے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے نمٹنے کے ان کی حکومت کے طریقۂ کار سے ناراضی کی شرح 64 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

فائننشال ٹائمز نے امریکی خاندانوں پر بڑھتے معاشی دباؤ کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ نے قرض لینے کی لاگت، ایندھن اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

اس کے ساتھ صارفین کے اعتماد میں کمی اور حقیقی اجرتوں میں کمی نے بھی امریکی خاندانوں کے مالی مسائل کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل سامنے آنے والے اس سروے کے سیاسی اثرات بھی اہم ہیں۔ سروے کے مطابق 44 فیصد امریکی ووٹرز ڈیموکریٹس جبکہ 39 فیصد ریپبلکنز کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور معاشی مشکلات آئندہ انتخابات میں ٹرمپ حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha