23 جنوری 2014 - 20:30
مستونگ کارروائی: 20 مشتبہ افراد حراست میں

پاکستان کےصوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی اداروں کا جعمے کی صبح شروع ہونی والی کارروائی جاری ہے جس میں اب تک متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ابنا: فرنٹئر کور بلوچستان کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک اس آپریشن میں 20 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ کارروائی مستونگ کے علاقے کانک اور درین گڑھ میں کی جا رہی ہے۔ کارروائی میں اطلاعات کے مطابق نیم فوجی فرنٹئر کور کے علاوہ انسداد دہشت گردی فورس اور لیویز اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کی رات گئے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ہزارہ ہلاکتوں میں ملوث دہشت گرد بچ نہیں سکتے اور واقعے کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب شدت پسندوں کو کھلے عام ہزارہ برادری کو نشانہ بنانے نہیں دیا جا سکتا۔ ”اب یہ ایسے نہیں چلنے دیا جائے گا۔” کوئٹہ میں مستونگ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے زائرین کے لواحقین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور شیعہ تنظیموں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یقین دلایا کہ حکومت دہشت گردوں کا پیچھا کرے گی اور ہزارہ برادی کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ ان کی یقین دہانی پر ہزارہ قوم نے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کی تدفین جعمے کو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایران سے منگل کو آنے والے زائرین کی بس پر مستونگ کے علاقے میں بم حملے میں 25 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق ہزار ہ قبیلے سے تھا۔ مرنے والوں کے لواحقین نے تدفین سے انکار کرتے ہوئے ان کے ہمراہ دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ دھرنے کے شرکاء نے اس واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری، کوئٹہ اور مستونگ میں باہدف آپریشن کے علاوہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں فرقہ وارانہ شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ برادری کے مطالبات کو پورا کیا جائے گا اور بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیےحکومت تمام اقدامات اٹھائےگی۔ چوہدری نثار کے مطابق’ میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ صوبائی اور وفاقی حکومت مل کر اس پر پیش رفت کرے گی‘۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کوحالات خراب کرنےکی اجازت نہیں دی جائےگی اور پوری قوم ہزارہ برادری کے ساتھ غم میں شریک ہے‘۔ گزشتہ منگل کو ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر مستونگ کے علاقے میں بم حملے میں 25 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے وفاقی وزیر کی یقین دہانی کے بعد کوئٹہ میں مستونگ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے زائرین کے لواحقین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور شیعہ تنظیموں نے دو روزہ دھرنے کے خاتمے اور لاشوں کی تدفین کا اعلان کیا۔ دھرنے کے خاتمے کا اعلان جمعرات کی شب ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر عبدالخالق ہزارہ اور مجلس وحد ت المسلین کے رہنماؤں نے کیا۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر عبدالخالق ہزارہ نے اعلان کیا کہ جمعہ کو صبح دس بجے لاشوں کی تدفین کی جائے گی۔ اس سے پہلے وفاقی وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ، وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید اور دیگر وفاقی اور صوبائی حکام دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کے لیے کوئٹہ کے علمدار روڈ پہنچے۔ چوہدری نثار نے قندہاری امام بارگاہ میں مجلس وحد ت المسلمین، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے تھے۔

.......

/169