ابنا: مختلف شہروں ميں يہ مظاہرے سن دوہزار گيارہ کے انقلاب کي سالگرہ سے محض چند روز قبل ہوئے جس کے نتيجے ميں حسني مبارک کي تيس سالہ آمريت کا خاتمہ ہوگيا تھا۔ مظاہرين بدھ کي رات ديرگئے دارالحکومت قاہرہ کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے طلعت الحرب اسکوائر کي جانب مارچ کيا۔ مظاہرين نے اس موقع پر اپنے ملک کے اندروني معاملات ميں غير ملکي مداخلت کي مذمت کي اور امريکي پرچم نذر آتش کيا۔ پوليس نے مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے آنسوگيس کے گولے پھنکے اور پاني کي توپوں کا استعمال کيا۔قاہرہ سے پچھتر کلوميٹر کے فاصلے پر واقع منصورہ سٹي ميں بھي طلبہ کے ايک گروپ نے سڑکوں مارچ کيا اور فوج کي حمايت يافتہ عبوري حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرين معزول صدر محمد مرسي اور ان کے ساتھيوں کي رہائي کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مصر کے ساحلي شہر پورٹ سعيد ميں بھي ايسے ہي مظاہرے کئےگئے جن ميں شريک لوگ پوليس کا کريک ڈاون بند کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔مصري پوليس نے مظاہروں کے پيش نظر قاہرہ کے تحرير اسکوائر اور اس کے اطراف ميں سيکورٹي ميں زبردست اضافہ کرديا ہے ۔ مصر ميں صدر مرسي کي معزولي کے بعد سے مصر ميں حالات بدستور کشيدہ چلے آرہے ہيں۔
.......
/169