اہلبیت(ع) نیوز اینجسی۔ابنااس سال اگر ایک طرف چوبیس دسمبر کو بیس صفر المصفر یعنی چہلم کا دن ہے تو ساتھ ہی پچیس دسمبر حضرت عیسی ؑ کی یاد بھی ہے۔۔ اس حوالے سے اگر ایک طرف یورپی ممالک بالخصوص لندن کے درودیوار پرامام حسینؑ اور حضرت عیسیؑ کی یاد پر مبنی بل بورڈز آوایزاں ہیں جس کی تصاویر یہاں ای میل میں منسلک ہیں تو دوسری طرف چہلم یا اربعین کے دنیا بھر سے قزائرین کا سمندر اورملین مارچ کربلا کی طرف رواں دواں ہیں۔نواسہ رسول ص محسن انسانیت امام حسین ع اور حضرت عیسی ع دونوں کا مقصد توحید کی بقا اور دینا میں انسانی اقدار امن و امان اور آزادی کا فروغ تھا، یہی وجہ ہے کہ امام حسین ؑ کا پیغام بغیر کسی تفریق کے دنیا بھر کے تمام انسانوں اور آزادی کی تحریکوں کے لئے مشعل راہ ہے، جس کا ذکر نیلسن منڈیلا نے بھی واشگاف الفاظ میں کیا۔نیلسن مںڈیلا کے لئے کربلا و امام حسین ؑآئیڈیل:- افریقہ کو آزادی اور حریت اور نسلی امتیاز کا خاتمہ کرنے والے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے اپنی کامیابی کا سہرا امام حسین ع اور کربلا کو آئیڈئل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جب جیل میں میں یعنی نیلسن منڈیلا کی اسیری بیس سال سے زائد ہوئی تو ایک رات میں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ کل صبح حکومت کے تمام تر شرائط مان کر دستخط کرکے تسلیم ہو جاؤ ، لیکن اچانک اسی رات مجھے کربلا اور امام حسین کی یاد نے ہمت باندھی کہ جب امام حسین نے کربلا میں نامناسب حالات کے باوجود ظلم و یزیدیت کی بیعت نہیں کی تو میں نیسلن منڈیلا کیوں ظلم کے آگے تسلیم ہو جاؤ اسلئے میری کامیابی کا راز کربلا اور امام حسین کو آئیڈئل قرار دینا ہے۔۔امام حسین ؑ کے انقلاب کی تازگی کا اثر دیکھئے کہ کربلاو عراق سے عراقی عوام کی مزاحمت کی وجہ سے اس زمانے کا یزید امریکہ بھاگنے پر مجبور کر شکست سے دوچار ہوا۔ اور کربلا میں روضئہ حسینؑ کی طرف ہر سال چہلم کے حوالے سے کئی ملین افراد زائرین کے سمندر کا جمع ہونا اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم ہر زمانے کے یزید کے خلاف لڑتے رہیں گے۔عراق پر جب یزید وقت امریکہ نے اپنے ہی پالے ہوئے پٹھو صدام کی حکومت کے خاتمے اور کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے چڑھائی کرکے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ ڈالے تو دوسری طرف عراقی عوام نے اس دور کے یزید امریکہ کے سامنے جھکنے کی بجائے امام حیسنؑ کی عزاداری اور ماتم کی طاقت و فلسفے سے ظلم و یزیدیت کے خلاف آواز اٹھا کر آخر کار امریکہ کو عراق چھوڑنے پر مجبور کیا۔ عراق میں عاشورا اور چہلم کے موقع پر لاکھوں حتی کہ چہلم و اربعین شہدائے کربلا کے موقع پر ایک کروڑ سے زیادہ پاپیادہ عزاداروں کے کربلا کی طرف مارچ و عزاداری اور لبیک یا حسینؑ، حسینت زندہ باد و یزیدیت مردہ باد کے نعروں نے وہاں ڈیوٹی پر مقیم امریکی فوجیوں کے نفسیات پر اثر ڈالا اور یوں امریکی افواج میں امریکی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہونے کے ڈر سے امریکہ عراق سے دم بھگا کر بھاگ گیا یقینا امریکہ کا عراق سے بھاگ جانا ٹام جیسے سینکڑوں فوجیوں کی نفسیات پر اثر اور ان کے دل میں عزاداری و ماتم امام حسینؑ کی وجہ سے جنگ مخالف جذبات پیدا ہوئے ،ٹام کا خط سن دو ہزار تین میں مختلف میڈیا ذرائع و اخبارات بشمول پاکستان کے روزنامہ ڈان کے سنڈے ایڈیشن میں بھی دس سال پہلے شائع ہوا۔ جس کے ایک پیراگراف کا یہاں ترجمہ و تفصیل یہاں قارئین کے لئے دی جا رہی ہے۔ٹام لکھتے ہیں۔۔میری ماں، میں آپ کا بیٹا ٹام ہوں، اور یہ کربلا شہر کے ایک بیرک یا مورچے میں میری ڈیوٹی کا تیسرا دن ہے۔یہاں ایک مقدس مقام زیارات کی طرف لوگ جا رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مقدس مقام یا زیارت ان کے نبی (حضرت محمد ص) کے نواسے کی اس قربانی کی یاد میں بنایا گیا ہے کہ آپ (امام حسینؑ) نے اپنے خاندان کے تمام مرد بشمول چھ ماہ کے شیر خوار کو اللہ کی راہ میں قربان کیا۔ماں۔ میں بھی ہوسٹن امریکہ سے بہت دور اس صحرا میں آیا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ میں یہاں اللہ کی رضا کے لئے نہیں آیا بلکہ میں اور میرے دوسرے ساتھی(امریکی فوجی) ہم سب یہاں اسلئے ہیں کہ ہمارے صدر (امریکی صدر) نے ہمیں یہاں مامور کیا ہے۔*ٹام کے اس خط سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح عراق سے امریکہ کی ذلالت بھری شکست میں سید الشہدا اور امام حسینؑ کی عزاداری نے اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ عراق میں سینکڑوں امریکی فوجی نفسیاتی و ذہنی مریض بن گئے تھے۔دوسری طرف مشرق وسطی میں حزب اللہ اور انقلاب اسلامی نے سیرت امام حسینؑ کے فلسفے پر عمل پیرا ہو کر یزیدیت کی نیندیں حرام کردی ہیں۔جس کی تازہ ترین مثال یزید وقت امریکہ کی سربراہی میں دنیا بھر کی باطل قوتوں حتی کہ اوائل اسلام اور پھر دور یزید ملعون کی طرح خوارج و یزیدی قوتوں آج کی القاعدہ و طالبان کا امریکی امامت میں دمشق میں اسرائیل مخالف شام حکومت کے خلاف بغاوت کا بازار گرم کرکے شریکتہ الحسینؑ بی بی زینب سلام اللہ علیہ کے دمشق میں واقع مزار کی خوارج القاعدہ طالبان کی طرف سے بے حرمتی کی کوشش کرنے لیکن یہ یزیدی قوتیں دربار یزید لعین میں بی بی زینب س کا تاریخی خطبہ بھول گئیے ہیں جس کا ذکر ذیل میں آئے گا کہ اے یزید لعین یعنی ہر دور کے یزید تم جتنی بھی کوشش کرو ہماری اہلبیت ؑ محمد ص و آل محمد ؑ کی یاد تم دلوں سے نہیں نکال سکتے۔۔۔۔انشااللہ عراق کی طرح دمشق و سوریا سے بھی یزید وقت امریکہ اور خوارج و یزیدی قوتوں آج کی القاعدہ و طالبان کا امریکی امامت میں دمشق میں اسرائیل مخالف شام حکومت کے خلاف بغاوت نام نہاد جہاد ناکام و نامراد ہوگا۔۔بقول علامہ اقبالحدیث عشق دو باب است کربلا و دمشقیک حسینؑ رقم کرد و دیگر زینب سجس طرح روز عاشورا میدان کربلا میں امام حسینؑ اور آپ کے باوفا جانثاروں نے قربانیاں دے کر اسلام کو تا ابد زندہ جاوید کرکے محرم و عاشورا کو نمایاں کر دیا۔اسی طرح چہلم یا صفر المظفر کا مہینہ خانوادہ اہلبیتؑ کے پاک و مطہر بیبیوں کا دین حق کی خاطر قربانیاں دینا ہے ۔یہی وجہ ہےکہ امام خمینی ؒ فرماتے ہیں کہ محرم اور صفر ہی نے اسلام کو زندہ کردیا۔جب کہ حکیم الامت علامہ اقبالؒ جو بہترین کربلا شناس تھے وہ تحریک کربلا کو دو ابواب میں تقسیم کرکے یزیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح کا امام حسین علیہ سلام و شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ سے منسوب کرکے فرماتے ہیں کہ حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشقیک حسین رقم کرد و دیگر زینببچوں و جوانوں کی طرح کربلا میں خواتین کا بھی کردار رہا ہےلیکن سب سے اہم کردار خواتین ہی کا ہے کیونکہ حسینؑ و اصحاب حسینؑ کو شہید کرنے کے بعد یزید لعین و بنی امیہ نے اپنے اجداد کے راستے پر چلتے ہوئے اتنا منفی پروپیگنڈہ کر رکھا تھا کہ نعوذ باللہ امام حسینؑ باغی تھے اور خلیفہ وقت یزید ملعون کے خلاف بغاوت کی تھی۔۔لیکن یہ امام حسینؑ کی شیردل بہن سیدہ زینب سلام اللہ علیہ جسے شریکتہ الحسینؑ بھی کہا جاتا ہے کا بحثیت سالار قافلہ اسیران کربلا کردار ہی تھا ۔کہ شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہعلیہ نے دیگر مخدارات عصمت و طہارت خواتین و بچوں سمیت کربلا سے کوفہ و شام کے بازاروں و زندانوں میں علی علیہ سلام کے لہجے میں خطبے سناکر اور بازاروں میں ماتم حسینؑ برپا کرکے جلوس عزاداری اور ظالموں کے خلاف احتجاج کی بنیاد ڈال کر یزید ملعوں اور بنی امیہ کے منفی پروپیگنڈے کو خاک میں ملا دیا۔اس سلسلے میں دربار ابن زیاد و یزید لعین دمشق میں شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ کے خطبوں نے یزیدیت کو تاقیامت رسوا و بے نقاب کرکے لعنت کا حقدار ٹہرایا۔۔یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت علامہ اقبالؒ جو بہترین کربلا شناس تھے وہ تحریک کربلا کو دو ابواب میں تقسیم کرکے یزیدیت کی نابودی اور حسینت کی فتح کا امام حسین علیہ سلام و شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ سے منسوب کرکے فرماتے ہیں کہ حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق یک حسین رقم کرد و دیگر زینب علامہ اقبالؒ کے اس شعر کا ترجمہ و تفسیر اگر کرنا چاہے تو معروف دانشور علی شریعتی کی زبان میں اس طرح کیا جا سکتا ہے۔۔کہ جو شہید ہو چکے انہوں نے حسینی کام انجام دیا جو ذندہ ہے انہیں زینبی کام انجام دینا چاہیے،جو نہ حسینی کام انجام دے اور نہ ہی زینبی کام وہ یزیدی ہیں۔یہاں شام و کوفہ کے بازاروں میں بی بی زینب س کے خطبات سے چند اقتباسات دئیے جا رہے ہیں ،جس سے میدان کربلا میں خواتین کا کردار واضح تر ہو جائے گا۔شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ نےشام دمشق کے یزیدی درباروں اور بازاروں میں یادگار خطبے دیے۔شام کےزندان کو اپنے مظلوم بھائی کے عزاخانے میں تبدیل کردیا اور اس طرح ستمکاروں کے محل لرزنے لگے۔ابن زیاد ملعون اس باطل خیال میں تھا کہ ایک خاتون اس قدر مصائب اور رنج و آلام دیکھ کر ایک جابر ستمگر کے سامنے جو اب دینے کی سکت و جرأت نہیں رکھتی،کہنے لگا:اُس خدا کا شکرگزار ہوں جس نے آپ لوگوں کو رسوا کیا،تمہارے مردوں کو مارڈالا اور تمہاری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا’’علی کی بیٹی نے کمال عظمت کے ساتھ اس سرکش ظاغوت کی طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھا اور فرمایا یابن مرجانہ۔۔یاد رہے کہ ابن زیاد لعین کی ماں مرجانہ اس وقت عرب کی زانی خواتین میں مشہور تھی اور یہ بھی مشہور تھا کہ ابن زیاد حرام ذادہ ہے ،لیکن اس کے باوجود یزید ملعون نے ابن زیاد کو اپنا منہ بولا بیٹا بناکر گورنر بنایا تھا:تعریفیں اُس خدا کیلیے ہیں جس نے ہمیں اپنے پیغمبرص کے ساتھ منسوب کرکے عزت بخشی آلودگی و ناپاکی سے دور رکھا اور تجھ جیسے ویران گر شخص کو رسوا کردیا۔دربار یزید لعین دمشق میں ،حضرت زینب سلام اللہ علیہا کاتاریخی خطبہ زینب (س)اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء (س)کی طرح ظالموں کے سامنے آواز بلند کرکے صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں ، بھرے دربار میں خدا کی حمدو ستائش کرتی ہیں اور رسول(ص) و آل رسول (علیہ سلام) پر درود بھیجتی ہیں اور پھر قرآن کی آيات سے اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں :یزید تویہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین و آسمان کو ہم پر تنگ کردیا ہے تیرے گماشتوں نے ہمیں شہروں شہروں اسیری کی صورت میں پھرایا تیرے زعم میں ہم رسوا اور تو باعزت ہوگیا ہے ؟ تیرا خیال ہے کہ اس کام سے تیری قدر میں اضافہ ہوگیا ہے اسی لۓ ان باتوں پر تکبر کررہا ہے ؟ جب تو اپنی توانائی و طاقت (فوج) کو تیار دیکھتا ہے اور اپنی بادشاہت کے امور کو منظم دیکھتا ہے تو خوشی کے مارے آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔تو نہیں جانتا کہ یہ فرصت جو تجھے دی گئی ہے کہ اس میں تو اپنی فطرت کو آشکار کرسکے کیاتو نے قول خدا کو فراموش کردیا ہے ۔ آیت کافر یہ خیال نہ کریں کہ یہ مہلت جو انھیں دی گئي ہے یہ ان کے لۓ بہترین موقع ہے ، ہم نے ان کو اس لۓ مہلت دی ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں ، پھر ان پر رسوا کرنے والا عذاب نازل ہوگا ۔ کیا یہ عدل ہے تیری بیٹیاں اور کنیزیں باعزت پردہ میں بیٹھیں اور رسول ص کی بیٹیوں کو تو اسیر کرکے سربرہنہ کرے ، انہیں سانس تک نہ لینے دیا
25 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 490367
چہلم امام حسینؑ اور حضرت عیسیؑ کی یاد ،نیلسن مںڈیلا کے لئے کربلا و امام حسین ؑآئیڈیل۔چہلم امام حسینؑ، زائرین کے سمندر کا کربلا کی طرف ملین مارچ ۔ حضرت عیسیؑ اور نیلسن منڈیلا کی تحریک حریت۔