ابنا: روس کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے جرمن اخبار کی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس نے لینن گراڈ کے علاقے میں اسکندر میزائل سسٹم نصب کیا تھا اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ روس سے متصل یورپی ممالک پولینڈ ، لیتھوینیا، ایسٹونیا اور لیٹویا نے خدشات پر مبنی علیحدہ علیحدہ بیانات جاری کیے ہیں۔ روس نے امریکا کی جانب سے یورپ میں میزائل شکن نظام نصب کرنے پر میزائل نصب کرنے کی پہلے ہی دھمکی دے رکھی تھی۔ ادھر امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان میری ہارف کا کہنا ہے کہ امریکا نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے والے اقدامات سے باز رہے۔ میری ہارف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے اپنی اور دوسرے ممالک کی تشویش روس تک پہنچادی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایکبار پھر کچھ اس قسم کی صورت حال بنتی جارہی ہے جس میں روس اور یورپ و امریکہ مختلف مسائل کو لے کر ایک دوسرے کے مدمقابل آتے جارہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ حالیہ کچھ عرصے سے روس، علاقائی و عالمی سطح پر اپنا سابق سوویت یونین کے زمانے والا مقام حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
.......
/169