16 دسمبر 2013 - 20:30
فلسطینی عوام سازباز کے عمل کے خلاف

ایک سروے کے مطابق فلسطینی عوام کی بڑی تعداد غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ سازباز مذاکرات کے خلاف ہیں۔

ابنا: تازہ ترین سروے نتائج کا اعلان کل کیا گیا جس میں چھپّن فیصد فلسطینی عوام نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ امریکی وساطت سے شروع ہونے والا مشرق وسطی کے نام نہاد امن مذاکرات کا عمل، اب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔یہ سروے، ستّائیس نومبر سے دس دسمبر کے درمیان غرب اردن کے مختلف علاقوں، مشرقی بیت المقدس اور غزہ میں انجام پایا۔فلسطین کی خود مختار انتظامیہ اور مقبوضہ فلسطین کی غاصب صیہونی حکومت کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات کا نیا دور، امریکی وساطت سے اسی سال جولائی کے مہینے میں شروع ہوا ہے۔ اس سے قبل مذاکرات کا یہ عمل، ستمبر سنہ دو ہزار دس میں مقبوضہ علاقوں میں صیہونی آباد کاری اور یہودی بستیوں کی غیر قانونی تعمیر کا عمل روکنے سے غاصب صیہونی حکومت کے انکار کے بعد تعطل سے دوچار ہوگیا تھا۔غاصب صیہونی حکومت سے، کہ جس نے کبھی اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل نہیں کیا ہے، فلسطینی امنگوں کے تناظر میں کسی بھی قسم کی امید رکھنا منطقی نہیں سمجھا جاتا۔قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ فلسطین کی غاصب صیہونی حکومت، فلسطین کی خود مختار انتظامیہ اور یا فلسطینیوں کو کسی بھی قسم کی کوئی مراعات دیئے بغیر اور مقابل فریق سے ہر طرح مراعات حاصل کرنے کے عزائم کے ساتھ امریکی وساطت سے سازباز کا عمل آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ بیشتر فلسطینی مسلمان اس غاصب حکومت کے ساتھ مذاکرات کئے جانے کے سخت خلاف ہیں۔

.......

/169