6 دسمبر 2013 - 20:30
دوسرے ملکوں کی جاسوسی وائٹ ہاوس کے دستور کی بنا پر

امریکہ کی جانب سے دوسرے ملکوں میں ٹیلی فونک گفتگو کا سنا جانا، وائٹ ہاؤس کے احکامات کی بنیاد پرانجام پایا ہے۔

ابنا: امریکہ کی جانب سے دوسرے ملکوں میں ٹیلی فونک گفتگو کا سنا جانا، وائٹ ہاؤس کے احکامات کی بنیاد پرانجام پایا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے احکام نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ملکوں میں ٹیلی فونک گفتگو امریکہ کے صدر باراک اوباما کے حکم سے سنی گئی ہے۔ امریکہ کی نیشنل سیکورٹی ایجینسی نے اسی طرح تاکید کی ہے کہ دوسرے ملکوں میں ٹیلی فونک گفتگو کا سنے جانے کا پروگرام امریکی کانگریس کے ارکان کی منظوری سے ہوا اور امریکہ کے اعلی احکام نے اس کی تائید بھی کی ہے۔ یادرہے کہ امریکہ کی جانب سے دوسرے ملکوں میں ٹیلی فونک گفتگو سنے جانے کے مسئلے نے عالمی رائے عامہ میں امریکہ کی سماجی پوزیشن کو نہایت ہی کمزور کردیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲