26 نومبر 2013 - 20:30

برطانیہ میں مسلمان خواتین مردوں سے زیادہ اسلامو فوبیا کے حوالے سے ہونے والے حملوں کا شکار ہوتی ہیں۔

ابنا: برطانیہ میں انجام پانے والی ایک تحقیق سے نشاندہی ہوتی ہے کہ اپریل 2012 سے اپریل 2013 تک کے عرصے کے دوران برطانیہ میں اسلامو فوبیا کے حوالے سے ہونے والے حملوں کا سب سے زیادہ شکار خواتین رہی ہیں۔ سامنے آنے والی تحقیقات کی رپورٹ کہ جو "ٹل ماما" نامی ادارے کی جانب سے شائع ہوئی ہے سے نشاندہی ہوتی ہے کہ 80 فیصد حملے باپردہ خواتین پر ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ 15 سے 52 سال کی عمر کی 20 خواتین کہ جو مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کی بھینٹ چڑھی ہیں کے انٹرویو کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔"ٹل ماما" ادارے میں دینی امور کی انچارج "فیاض مقال" اس بارے میں کہتے ہیں، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسلام کے خلاف تعصّب کے حوالے مسلمان خواتین نے صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ کافی عرصے سے اسلامو فوبیا کے نتیجے میں رونما ہونے والے واقعات کی صدائے بازگشت سنی جارہی ہے۔ ہم مستقل طور پر لوگوں کی زبانی یہ سنتے ہیں کہ اسلامو فوبیا کے نتیجے میں متاثر ہونے والوں کی تعداد کتنی ہے؟ درحقیقت لوگ اس حوالے سے اطلاعات حاصل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔"فیاض مقال" نے اس سے قبل جرمنی کے انٹرنیشنل نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ 18 مہینوں برطانیہ میں اسلامو فوبیا کے نتیجے میں ہونے والے حملوں کی تعداد ایک ہزار دو سو ہے۔...../169