5 ستمبر 2026 - 20:18
شہید رہبر سخت ترین حالات میں حق و باطل کی پہچان کا معیار تھے

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایک حقیقی کمانڈر صرف ذمہ داریاں تقسیم نہیں کرتا بلکہ قوم اور اپنے ساتھیوں کی سمت متعین کرتا، مستقبل کا راستہ دکھاتا اور مشکل ترین حالات میں درست اور غلط راستے میں فرق کرنے کا معیار بن جاتا ہے۔ ان کے بقول شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای ان کے لیے ایسی ہی حیثیت رکھتے تھے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمدباقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایک حقیقی کمانڈر صرف ذمہ داریاں تقسیم نہیں کرتا بلکہ قوم اور اپنے ساتھیوں کی سمت متعین کرتا، مستقبل کا راستہ دکھاتا اور مشکل ترین حالات میں درست اور غلط راستے میں فرق کرنے کا معیار بن جاتا ہے۔ ان کے بقول شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای ان کے لیے ایسی ہی حیثیت رکھتے تھے۔

قالیباف نے ثقافتی و ادبی ماہنامے سرو میں شائع اپنے مضمون میں کہا کہ وہ شہید رہبر کی وفات پر غمزدہ ہیں، تاہم یہ غم صرف جذباتی نہیں بلکہ اس عظیم شخصیت کی جدائی کے احساس کے ساتھ ان کے دشمنوں کے خلاف انتقام کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے خود کو شہید رہبر کا ایک سپاہی اور شاگرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ان کی رہنمائی میں سیکھتے ہوئے گزارا۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی جنگ سے لے کر انتظامی اور حکومتی ذمہ داریوں تک مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے انہیں خامنہ ای کی فیصلہ سازی، دوراندیشی اور انسانی ہمدردی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق حقیقی قائد اور کارکن کے درمیان تعلق محض تنظیمی احکامات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اعتماد، ایمان اور مشترکہ سوچ پر قائم ہوتا ہے۔

قالیباف کے مطابق شہید رہبر کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ صرف طاقتور کمانڈر نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں میں مقبول بھی تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قائد کو عوام اور کارکنوں کے دکھ درد کا ادراک ہونا چاہیے اور مشکل فیصلوں کے وقت اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر بہترین راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ شہید خامنہ ای حقیقت پسندانہ آرمان پسندی کے استاد تھے۔ وہ نہ آرمان پسندی کو خیالی دنیا میں تبدیل ہونے دیتے تھے اور نہ حقیقت پسندی کو مصلحت پسندی بننے دیتے تھے۔ ان کے نزدیک ایمان، اقدار، انتظامی صلاحیت اور عملی کارکردگی کے درمیان توازن ضروری تھا۔

قالیباف نے مزید کہا کہ شہید امام خامنہ ای حکومت کی کارکردگی اور عوامی خدمت پر خصوصی زور دیتے تھے اور ان کے نزدیک عوامی حمایت صرف نعروں سے قائم نہیں رہ سکتی؛ عوام کو اپنی زندگی میں انصاف، ترقی اور بہتر خدمات کے نتائج محسوس ہونے چاہئیں۔ اسی سوچ کی بنیاد پر انہوں نے ’’جہادی مینجمنٹ‘‘ کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ طرز حکمرانی قرار دیا۔

ان کے بقول اس طرز حکمرانی کا مطلب تھا کہ حکام مشکلات اور محدود وسائل کا بہانہ بنانے کے بجائے راستہ تلاش کریں، قومی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، نوجوانوں پر اعتماد کریں اور بحرانوں سے نکلنے کے لیے عملی حل تلاش کریں۔

قالیباف نے کہا کہ خامنہ ای عوام کی صلاحیتوں پر گہرا یقین رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جب عوام میدان میں آتے ہیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کئی دہائیوں تک جنگ، پابندیوں، سیاسی بحرانوں اور معاشی مشکلات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران ان حالات سے گزرنے میں کامیاب رہا۔

انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کی سب سے بڑی تعلیم یہ تھی کہ عوام کی ذمہ داری ایک امانت اور خدمت کا میدان ہے، ذاتی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ قالیباف کے مطابق آج بھی ان کی قیادت اور طرز حکمرانی کے اثرات ایران کے معاشرے میں نمایاں ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha