5 ستمبر 2026 - 20:42
الموسوی کا عراق کے معاشی بحران کے سنگین اثرات پر انتباہ

بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے عراق میں جاری معاشی بحران کے سماجی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے عراق میں جاری معاشی بحران کے سماجی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

الموسوی نے کہا کہ عراق کو شفافیت کے بحران اور نئی حکومت کے واضح پروگرام کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق محض حکومت سازی مقصد نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ انصاف کا قیام بھی ضروری ہے، کیونکہ عدل کے بغیر چلنے والی حکومت اپنی بنیادی ذمہ داری اور مقصد کھو دیتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عوام کی قوتِ خرید میں کمی کے باعث مارکیٹ کے بڑے حصے میں کساد اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی پیدا ہوئی ہے۔ کئی ایسی اشیا اور خدمات جو چند برس قبل عام ضروریات بلکہ بعض اوقات آسائشوں میں شمار ہوتی تھیں، اب عراق کے ایک بڑے طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

الموسوی کے مطابق غربت اور معاشی مشکلات کا تسلسل خاندانی اور سماجی زندگی کو بھی متاثر کر رہا ہے اور معاشرے میں مختلف سماجی مسائل اور نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بعض عراقی سیاستدانوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ رہنما بحران اور دباؤ کے وقت پیچھے ہٹنے اور حالات سے سمجھوتہ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں، جبکہ بحران ختم ہونے کے بعد دوبارہ وہی پرانی روش اختیار کر لیتے ہیں۔ انہوں نے نئے سیاسی چہروں کو سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا جن کی کارکردگی سے عوام پہلے ہی مایوس نہ ہوں۔

بغداد کے امام جمعہ نے کہا کہ باشعور عوام کو خاموش رہنے کے بجائے اپنے حقوق کا مطالبہ اور حکام سے جواب طلبی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق دینی مرجعیت کی رہنمائی میں ایسی سیاسی قیادت کے قیام کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے جو علم، انصاف اور ملک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

الموسوی نے عراق کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ خودمختاری سے متعلق فیصلے، بالخصوص ہتھیاروں کو صرف ریاست کے کنٹرول میں رکھنے کا معاملہ، مکمل طور پر عراقی اور داخلی مسئلہ ہونا چاہیے اور اس پر بیرونی دباؤ یا احکامات اثرانداز نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے کے ممکنہ نتائج پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے کہ اس کے بعد مزاحمتی کمانڈروں اور جنگجوؤں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور معاملہ حشد الشعبی کے ڈھانچے، کمانڈ، پالیسی اور مذہبی تشخص میں تبدیلی تک جا سکتا ہے۔

الموسوی نے واضح کیا کہ عراق کا اصل مسئلہ نہ ہتھیار ہیں اور نہ تیل، بلکہ سیاسی خودمختاری اور آزادانہ فیصلے کا اختیار ہے۔ انہوں نے ایسی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا جو حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندہ ہو، شہریوں کے مسائل حل کرے، انصاف قائم کرے اور بیرونی طاقتوں پر انحصار سے آزاد ہو۔

انہوں نے آخر میں ملک، حکمرانوں اور عوام کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراقی عوام کو اپنے تمام حقوق ملنے چاہئیں اور عراق کو بیرونی مداخلت سے آزاد ہو کر اپنی خودمختار فیصلہ سازی اور حکمرانی دوبارہ حاصل کرنی چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha