جو کچھ خداوند متعال قرآن میں خزائن کے عنوان سے بیان فرماتا ہے وہ قرآن اور عرفان کی زبان میں ولایت مطلقہ ہے۔ وہ خزینہ جس سے ایک عالَم خرچ ہورہا ہے اور وہ قلت کا شکار بھی نہیں ہوتا، وہ امامت و ولایت ہے۔ اس عالم کے تمام موجودات اور اشیاء کا سرچشمہ امام زمانہ(عج) کا وجود مبارک ہے؛ امام زمانہ(عج) اللہ کا خزینہ ہیں۔ امام زمانہ(عج) ان جہان شمول برکات میں سے ہے کہ خداوند متعال نے عالم برزخ اور جنت اور تمام عوالم کو اسی خزینے سے خرچ کیا ہے اور خزینہ ابھی مکمل ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی۔ زیارت جامعہ کبیرہ میں تمام ائمہ آل رسول(ص) کو ایک ہی حقیقت کے عنوان سے متعارف کراتی ہے: "أنَّ أرواحَكم وَنُورَكُم وَطینَتَكُم واحِدَهٌ طابَت وَطَهُرَت، بَعضُها مِن بَعضٍ"۔ (1) بے شک آپ حضرات کی ارواح، آپ کا نور اور آپ کی طینت ایک ہی ہے۔ یہ سب ایک حقیقت ہیں۔ ایک خزینہ ہیں اللہ کے خزائن میں سے؛ لیکن ان کے جلوے اور ان کا ظہور مختلف ہے۔ آئینے اور نمود و ظہور مختلف ہیں ورنہ سب ایک حقیقت ہیں؛ جن میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔ انبیاء علیہم السلام نے اس خزينے سے استفادہ کیا؛ اولیائے الہی نے اس خزینے سے فیض اٹھایا؛ اشقیاء نے بھی اس خزینے سے فیض اٹھایا۔ اس عالم کے تمام موجودات حضرت مہدی عَجَّلَ الله تعالی فَرَجَهُ الشَّرِیف کے وجود شریف کے جلوے ہیں؛ سب اسی خزینے سے زمین پر اترے ہیں؛ تمام حروف اور تمام الفاظ و معینہ مکتوبات نے اسی روح اور اسی علم اور امام زمانہ(عج) کے وجود مقدس سے جنم لیا ہے۔ یہ ایک اعلی عرفانی حقیقت ہے کہ اگر آپ سمجھ لیں ـ اور سمجھ رہے ہیں ـ تو آپ امام زمانہ(عج) سے اپنی دائمی اور مستقل وابستگی کی حقیقت کا ادراک کر لیں گے۔ ان حقائق کے ادراک کے لئے پاک دل کی ضرورت ہے؛ علم کی بنا پر یہ ادراک ممکن نہیں ہے نورانیت کی بنیاد پر ممکن ہے۔ آپ سمجھ لیں گے کہ ہمارا وجود لمحہ بلمحہ تازہ اور تازہ تر ہورہا ہے؛ ہر لمحہ ہم خدا کے حروف میں سے ایک حرف ہیں [یعنی سابقہ لمحے سے مختلف بالکل تازہ حرف]۔ ہم ہر لمحہ خداوند متعال سے وجود پاتے ہیں؛ مسلسل امام زمانہ(عج) کے وجود سے خیر و برکت وصول کرتے ہیں۔ اگر ہم دیکھتے ہیں تو امام زمانہ(عج) کے اذن سے دیکھتے ہیں، اگر سنتے ہیں تو امام زمانہ(عج) کے اذن سے سنتے ہیں، اگر اٹھتے ہیں تو امام زمانہ(عج) کے اذن سے اٹھتے ہیں اور اگر بیٹھتے ہیں تو امام زمانہ(عج) کے اذن سے بیٹھتے ہیں۔ امام زمانہ(عج) کی قوت سے بیٹھتے ہیں؛ لہذا ایک انسان اور انسان کامل ـ یعنی امام زمانہ(عج) ـ کے درمیان جدائی اور فراق ایک لمحہ بھی، محال ہے۔ امام زمانہ(عج) کسی بھی موجود سے جدا نہیں ہیں لہذا رب متعال نے ارشاد فرمایا: "وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا"۔ (2)؛ خداوند متعال نے زمین کو اپنے نور سے روشن کیا، یہ اللہ کا نور جو اس عالم کے تمام ذرات کو روشنی بخشتا ہے ائمہ طاہرین علیہم السلام کے ارشادات کے مطابق امام عصر عَجَّلَ الله تعالی فَرَجَهُ الشَّرِیف کا وجود شریف ہے۔ زمین کی تمام برکتیں امام زمانہ(ع) کے ہاتھ میں ہیں۔ زمین کے اندر تمام افعال و انفعالات اور تأثیرات وتأثرات (اثر اندازیاں اور اثر پذیریاں) امام زمانہ(عج) کی عنایت سے ہیں۔ چنانچہ ہم زیارت جامعہ کبیرہ میں پڑھتے ہیں: "بِكُم فَتَحَ اللهُ وَبِكُم یختِمُ وَبِكُم ینَزِّلُ الغَیثَ وَبِكُم یمسِکُ السَماءَ أن تَقَعَ عَلَی الأَرضِ إلاّ بِإذنِهِ وَبِكُم ینَفّسُ الهَمَّ وَیكشِفُ الضُرَّ". (3) خداوند متعال نے آپ (چودہ معصومین) سے آغاز کیا اور آپ پر ہی سب اشیاء کو اختتام تک لے جائے گا اور آپ وجود سے بارش برساتا ہے اور آپ ہی کی خاطر آسمان کو زمین سے نہیں ٹکرنے دیتا [سیارات و کُرات کو اپنے مدار میں رکھتا ہے] آپ ہی کی خاطر غم و اندوہ کو فراخی میں بدلتا ہے اور سختیوں اور مشکلات کو ہٹا دیتا ہے۔ "بِیُمنِهِ رُزِقَ الوَرَی"۔ (4) اَلوَرَی؛ یعنی ما سِوَی اللہ؛ یعنی خدا کے سوا تمام دیگر موجودات، امام زمانہ(عج) کے وجود مبارک کی برکت سے رزق پاتے ہیں۔ یعنی عالم امکان امام عصر عَجَّلَ الله تعالی فَرَجَهُ الشَّرِیف کے وجود مبارک کا دسترخوان ہے، یہ دسترخوان جب کھلتا ہے تو اس کے ترشحات زمین اور زمان (وقت) ہیں جو ہمیشہ کے لئے امام زمانہ(عج) سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ جو سانس بھی لیتے ہیں، سانس لینے میں امام زمانہ(عج) کے وجود سے وابستہ ہیں؛ اور آپ سانس خارج کرنے کے ہر عمل میں امام زمانہ(عج) سے وابستہ ہیں۔ ہمارا وجود ـ اپنے ظاہری پہلو میں بھی اور باطنی اور معنی پہلو میں بھی تمام لمحات کے دوران ـ امام زمانہ(عج) سے وابستہ ہے۔ جب ہم خدا کو یاد کررہے ہوتے ہیں؛ نماز ادا کرتے ہیں؛ ہماری نماز کا دسترخوان امام زمانہ(عج) بچھا دیتے ہیں۔ جب آپ جمکران آتے ہیں، ـ ان ہی کے وجود مقدس کی قسم ـ امام زمانہ(عج) کی عنایت سے ہی آتے ہیں؛ ورنہ کوئی بھی عنایت کے بغیر جمکران جانے والا نہيں ہے۔ بعض لوگ تو حتی جمکران پر یقین تک نہیں رکھتے۔ امام زمانہ(عج) یہ دروازہ ان کے لئے کھولتے ہی نہيں ہیں۔ کسی نے حضرت آیت اللہ العظمی بہجت ـ رحمۃاللہ علیہ ـ سے پوچھا: کیا مسجد جمکران والی روایت کی سند درست ہے؟ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کا حکم خواب میں تھا، یہ درست ہے؟! [یعنی اس پر یقین کیا جاسکتا ہے] تو آیت اللہ العظمی بہجت نے فرمایا: "پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ خواب نہیں تھا بلکہ بیداری میں حسن مثلہ جمکرانی آئے اور ان علامتوں کو دیکھا جو امام زمانہ(عج) نے کھینچی تھیں، اور آپ(عج) سے بات چیت کی؛ دوسری بات یہ کہ مسجد جمکران میں اس قدر بیمار شفایاب ہوئے ہیں اور اس قدر حاجتیں روا ہوئی ہیں کہ یہ موضوع تواتر کی حد سے گذر گیا ہے"۔ امام زمانہ(عج) کا وجود توفیق کے تمام دروازوں کو کھول دیتا ہے؛ ہمارا ظاہری رزق بھی اور معنوی و باطنی رزق بھی امام عصر عَجَّلَ الله تعالی فَرَجَهُ الشَّرِیف کے مبارک قدموں سے ہے اور امام زمانہ(عج) کے وجود سے ہی آسمانوں اور زمینوں کے وجود کو ثبات و استحکام ملتا ہے۔ امام زمانہ(عج) کا وجود اللہ کا لطف ہے۔ اگر امام زمانہ(عج) نہ ہوتے تو کوئی دوسرا موجود نہ ہوتا۔ یہ لطف ہے جو معرض وجود میں آیا ہے اور وہ مقدس وجود جو تمام موجودات کا سرچشمہ ہے، امام زمانہ(عج) کا وجود ہے: وُجُوُهُ لُطفٌ وَتَصَرُّفُهُ لُطفُ آخَرُ"۔ آپ(عج) کا وجود لطف ہے اور آپ(عج) کا تصرف دوسرا لطف ہے۔ اگر امام زمانہ(عج) کے وجود میں پگھل جائیں اور فانی ہوجائیں اور آپ(عج) کے ولائی جاذبوں میں مجذوب ہوجائیں اور اپنے وجود کا قطرہ امام زمانہ(عج) کے وجود کے بحر بیکراں سے متصل کر دیں، تو ہم بھی "كُن فيكُون" کی کرسی پر رونق افروز ہوسکیں گے۔ ایک قطرہ نہ تو پیاسے کو سیراب کرسکتا ہے اور نہ ایک پھول اگا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جگہ کو آباد کرسکتا ہے۔ انسان کا وجود جب ایک قطرہ ہو تو ایک قطرہ کچھ بھی نہیں کرسکتا لیکن یہی ایک قطرہ جب سمندر میں پہنچتا ہے تو بجلی گھر چلاتا ہے، جہازوں اور کشتیوں کو حرکت دیتا ہے اور تمام موجودات کو اپنے اندر سے رزق دیتا ہے۔ یہ جو اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى"، (5) یہ اس لئے ہے کہ عشق جو [عاشق و معشوق اور قطرے اور سمندر کو] ایک کردیتا ہے؛ جب آپ امام زمانہ(عج) کے عاشق ہوجاتے ہیں اور در بدر اور کو بکو اپنے آقاجان کی تلاش میں سرگردان ہوجاتے ہیں اور آپ(عج) کے دیدار کے لئے جمکران مشرف ہوجائیں؛ اگر آپ کا دل حقیقی معنوں میں "[یا] صاحب الزمان" کہہ دے اور امام زمانہ(عج) کے وجود سے متصل ہوجائے تو آپ بھی شیخ حسن علی نخودکی اصفہانی ہو جائیں گے، ملا حبیب اللہ شریف ہوجائیں گے۔ ہم پاک زندگی گذارنا چاہتے ہیں، توبہ کرتے ہیں لیکن پھر بھی مبتلا ہوجاتے ہیں اور آلودہ ہوجاتے ہیں وہی ہیں جو میرے اس گارے کے بنے دل کو کندن بنا دیتا ہے: "تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا" (6) تو ہی انہیں پاک کرتا ہے، تو ہی ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں نشوونما دیتا ہے؛ انہیں شجرہ طیبہ میں تبدیل کرتا ہے تا کہ ان کا سر عرش سے بھی بالاتر آئے اور وہ نور الہی میں بدل جائیں اور عرش الہی کے ستاروں کی مانند، "عند ربهم" کے مقام پر فائز ہوجائیں۔ جو شخص بھی نیکی اور اچھائی، بندگی، طہارت، توبہ اور نیک اعملا میں کسی مقام پر پہنچتا ہے وہ اسی ولائی نگاہ اور اسی عنایت کی وجہ سے ہے۔ پس، ایک طرف سے اگر حضرت حجت(عج) کے وجود مبارک کے قدموں کی برکت سے پورے عالم اور انسانوں کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے تو دوسری طرف سے دل والوں کی معراج کی خاطر، یہی قلیل اعمال ہم سے قبول کرتے ہیں اور سلیمان کی طرح اپنی سلیمانی بارگاہ کی کرامت سے سب کو حاتم وار بخشتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حوالہ جات: 1۔ من لا یحضره الفقیه، ج2، ص613۔ 2۔ سورہ زمر آیت 69۔ اس آیت کی تفسیر میں مفضل بن عمر کہتے ہیں: "روى المفضل بن عمر قال: سمعت أبا عبد الله عليه السلام يقول: إِنَّ قَائِمَنَا إِذَا قَامَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّها وَ اسْتَغْنَى الْعِبَادُ عَنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ وَ ذَهَبَتِ الظُّلْمَةُ وَ یُعَمَّرُ الرَّجُلُ فِی مُلْکِهِ حَتَّى یُولَدَ لَهُ أَلْفُ ذَکَرٍ لَا یُولَدُ فِیهِمْ أُنْثَى وَ تُظْهِرُ الْأَرْضُ کُنُوزَهَا حَتَّى یَرَاهَا النَّاسُ عَلَى وَجْهِهَا وَ یَطْلُبُ الرَّجُلُ مِنْکُمْ مَنْ یَصِلُهُ بِمَالِهِ وَ یَأْخُذُ مِنْهُ زَکَاتَهُ فَلَا یَجِدُ أَحَداً یَقْبَلُ مِنْهُ ذَلِکَ اسْتَغْنَى النَّاسُ بِمَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه"۔ (الارشاد شیخ مفید ج 2 ص 381) مفضل کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا: جب ہمارے قائم قیام کریں گہ زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہوگی اور یہ نور لوگوں کو سورج کی روشنی سے بےنیاز کرے گا اور اندھیرا مکمل طور پر رخصت ہوگا اور لوگ ان کی سلطنت کے زمانے میں طویل عمریں پائیں گے حتی کے ایک ہزار بچے پیدا کریں گے جن میں حتی ایک لڑکی بھی نہ ہوگی؛ اور زمین اپنے خزانے ظاہر کرے گی حتی کہ لوگ روئے زمین پر خزانے دیکھیں گے اور لوگ مال اور زکواة کے ذریعے مدد کرنے کے لئے محتاجوں کو تلاش کریں گے اور کسی کو نہیں پائیں گے جو اس کا احسان قبول کرے یا زکواة وصول کرے اور لوگ خداوند متعال کی دی ہوئی نعمتوں کی برکت سے لوگ بےنیاز اور صاحب مال و دولت ہوجائیں گے۔ 3۔ من لا یحضره الفقیه، ج2، ص615۔ 4۔ زاد المعاد، ص4235۔ سورہ شوری آیت 23۔ ترجمہ: [اے میرے رسول(ص)!] کہئے کہ میں تم سے اس [نبوت و رسالت] پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا صاحبان قرابت اور اہل بیت کی محبت کے۔ 6۔ سورہ توبہ آیت 103۔………../٭۔٭
سورس کے طور ابنا کا ذکر کرکے اس مضمون سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔