11 نومبر 2013 - 20:30
شہ ملک وفا حضرت عباس (ع) کے مصائب

نویں محرم کو "شمربن ذی الجوش" عبیداللہ بن زیاد کی جانب سے مأمور ہوا کہ اگر "عمربن سعد" نے حکم عدولی کی تو لشکر یزید کی قیادت خود سنبھالے اور امام علیہ السلام پر حملہ کرے۔ شمر بنو کلاب میں سے تھا اور ...

عباس علمدار کی والدہ “ فاطمہ ام البنین” کے قبیلے سے تعلق رکھتاتھا۔ درحقیقت عباس (ع) اور ان کے سگے بھائیوں کا دور کا رشتہ دار سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ اس نے حضرت عباس (ع) اور ان کے بھائیوں کے لئے یزیدی گورنر ابن زیاد لعین سے امان نامہ حاصل کیا تا کہ بزعم خود انہیں امام حسین علیہ السلام سے الگ کردے اور اپنے رشتہ داروں کو بھی نجات دلائے!

شمر (ع) نویں محرم کے آخری پھر خیام حسین (ع) کے قریب آیا اور آواز دی: "یرے بھانجے کہاں ہیں؟" عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان علیہم السلام باہر آئے اور کہنے لگے:

"کیا چاہتے ہو؟"

شمر نے کہا:

"میں تمہارے لئے امان نامہ لایا ہوں۔ تم امان میں ہو!"

چار بھائیوں نے جواب دیا:

"لعنت ہو تم پر اور تمہارے امان نامے پر۔ کیا تم ہمیں امان دینا چاہتے ہو جبکہ فرزند رسول (ص) کے لئے امان نہیں ہے؟!" عباس (ع) نے شیر غراں کی مانند گرجدار آواز میں ساتھ جواب دیا:

"تیرے ہاتھ کٹ جائیں کہ تم کیا برا امان نامہ لائے ہو!، اے دشمن خدا!، کیا تم ہم سے چاہتے ہو کہ ہم اپنے بھائی، سید و آقا حسین فرزند زہرا (س) کو چھوڑ دیں؟ اور لعینوں اور لعین زادوں کی فرمانبرداری قبول کریں؟"۔ شمر نہایت غصے میں اپنی لشکرگاہ کی طرف لوٹا۔

عصر عاشور، وہ وقت بھی آیا جب تمام اصحاب و انصار اور اہل بیت (ع) شہید ہوئے تھے اور صرف حسین(ع) اور عباس – علیہماالسلام - باقی تھے۔ عباس سے اپنے بھائی کی تنہائی نہ دیکھی گئی اور اپنے امام اور بھائی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

عرض کیا: “ جان برادر! اجازت دیں گے کہ میں بھی جہاد کے لئے چلا جاؤں؟"

امام (ع) نے شدت سے گریہ کیا اور فرمایا: "بھائی جان! تم میرے علمدار ہو اور جاؤگے تو قافلہ منتشر ہوجائے گا"۔

عباس نے عرض کیا: "میرا سینہ تنگ ہوچکا ہے اور مزید جینے سے بیزار ہوچکا ہوں اور ان منافقین سے خون کا انتقام لینا چاہتا ہوں"۔

اجازت ملی تو علی و حسن و حسین علیہم السلام کی آغوش میں پرورش پانے والے عباس لشکر یزید کے مقابل کھڑے ہوئے انہیں نصیحت کی اور انہیں ان کے عمل کی انجام سے خبردار کیا مگر وہ سنگدل، سنگدل ہی رہے اور ان کے دلوں پر علمدار کربلا کے کلام کا کوئی اثر نہیں ہؤا۔

عباس (ع) ایک بار پھر خیموں کی جانب لوٹ آئے اور بھائی کو اپنے اقدام کی خبر دی۔ اس حال میں عباس (ع) کو ایک صدا آئی، پیاسے بچوں کے رونے بلکنے کی صدا سنائی دے رہی تھی۔ بچے "العطش، العطش" کی صدا بلند کررہے تھے۔

عباس (ع) اب ساقی بن کر میدان کی طرف جانا چاہ رہے تھے چنانچہ نیزہ اور مشک اٹھا کر رجز پڑھتے پڑھتے فرات کی جانب روانہ ہوئے:

لا ارہب الموت اذا الموت زقا