ابنا: زندگی سے محبت اور موت سے فرار ہر جاندار کی فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے انسان کو جہاں جینے کے آداب بتائے وہیں مرنے کے ڈھنگ بھی سکھائے۔ جس طرح اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص بے مقصد زندگی گزارے اسی طرح اسلام یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوئی شخص بے مقصد موت کے منہ میں چلا جائے۔ اسلام کے نزدیک انسان کی موت اور زندگی سے بڑھ کر اس کے اہداف مہم ہیں۔ چنانچہ جب کچھ لوگوں نے امام حسین (ع) کو زندگی بچانے کا مشورہ دیا تو آپ نے ان کے مشوروں پر اپنے اہداف کو ترجیح دی۔ کسی نے کہا یا ابن رسول اللہ آپ بیعت کرلیں اور اس جھگڑے سے جان چھڑائیں، کسی نے کہا عام راستے سے سفرنہ کریں اور کسی مخفی راستے کا انتخاب کریں، کسی کا کہنا تھا کہ مکےّ کو ہی اپنا مسکن بنالیں لیکن حضرت امام حسین (ع) کی نگاہ میں زندگی بچانے کی نہیں بلکہ اہم اہداف کی خاطر صرف کرنے کی چیز تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے عقلا کے نزدیک دولت، جمع کرنے کی نہیں بلکہ حسب ضرورت استعمال کرنے کی شئے ہے۔ چنانچہ آپ نے 61ھ میں زندگی کو بچانے کے بجائے اپنے اہداف پر خرچ کر دیا۔آپ نے دو راستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب کیا، اس ایک راستے کا جو بظاہر موت کا راستہ تھا اور آپ نے اس راستے کا انتخاب یہ کہہ کر کیا کہ موت تو خوشبختی ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی ذلت و رسوائی۔جی ہاں کربلا والوں نے آئندہ نسلوں کے لئے لق و دق صحرا کے خشک ذروں پر اپنے خون سے یہ پیغام لکھ دیا کہ انسان کے اہداف کے سامنے زندگی اور محبت دونوں ہی مساوی ہیں۔ کتب تاریخ کے تجزیئے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سوائے کربلا والوں کے اس دور کے لوگوں کی اکثریت موت سے ڈر گئی تھی اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ موت کا خوف انسان کو ہر دور میں رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ شاید ان میں اس دور کے وہ افراد بھی شامل ہوں جو اپنی دنیاوی جاہ و جلال اور حکومت کی خاطر لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اوراس ظلم کے ذریعے اپنی حکومت بچانے کے درپے ہیں لیکن شاید وہ بھول گئے ہیں کہ اگر ظلم پائیدار ہوتا تواس وقت یزید کا نام لیا جاتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آج یزید کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے بلکہ سب ظلم کا شکار ہونے والے حسین ابن علی کا نام لے رہے ہیں اور ہر طرف حسین اور فقط حسین ابن علی کی صدا گونج رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے ایسے بھی حکمران ہیں جو ان تمام باتوں کو سمجھنے کے باوجود اقتدار کے نشے میں مست ہو کر عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں اور ان میں آل خلیفہ بھی ہے جو اس ملک میں طاقت کے زور پر عوامی تحریک کو کچلنے کی کوشش میں ہے اور اسی سلسلے میں کل بحرین میں آل خلیفہ کے کارندوں نے شب اول محرم میں منامہ میں عزاداراں حسینی پر حملہ کرکے کئی عزاداروں کو زخمی کردیا۔
.......
/169