ابنا: رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کا یہ بیان جرمنی کے ایک اخبار کی اس رپورٹ کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے نیشنل سکیورٹی کے ادارے نے اقوامِ متحدہ کی اندرونی کمیونیکیشن کی جاسوسی کے دوران بعض خفیہ کوڈز بھی حاصل کیے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسریکی نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کیا کہ آیا ماضی میں امریکہ کی جانب سے ادارے کی جاسوسی کی گئی یا نہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے اس بارے میں بھی خیالات کا اظہار کرنے سے منع کر دیا کہ آیا اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی بھی جاسوسی کی گئی یا نہیں۔
اس سے پہلے امریکی جاسوسی کے راز افشا کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن کے حوالےسے انکشاف کیا گیا تھا کہ این ایس اے نے یاہو اور گوگل کے ڈیٹا سنٹر میں رابطے کے لنکس کو ہیک کیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع کی جانے والے دستاویزات کے مطابق انٹرنیٹ کے ان بڑے نیٹ ورکس پر سے روزانہ لاکھوں ریکارڈز اکٹھے کیے جاتے رہے۔
تازہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جرمنی کے انٹیلی جنس حکام کا ایک گروہ امریکہ پہنچا ہے جہاں وہ وائٹ ہاؤس میں امریکی حکام سے وائس چانسلر انگیلا میرکل کے ٹیلی فون کی نگرانی کیے جانے کے الزامات کی بابت بات چیت کرے گا۔
برلن میں بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون ایونز کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے لیے انگیلا میرکل کے دو اہم ترین مشیر خارجہ پالیسی اور انٹیلی جنس تعاون کے مشیر امریکہ گئے ہیں۔ یہ اس بات کا مظہر ہے کہ جرمن چانسلر نے اپنے فون کی نگرانی کے معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لیا ہے۔
اگلے ہفتے جرمنی کے انٹیلی جنس سربراہ بھی واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔
.......
/169