25 اکتوبر 2013 - 20:30
روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام نسل کشی نہیں ہے

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند تشدد میں جہاں ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور لاکھوں لوگوں کو ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے وہیں امن کا نوبل انعام یافتہ میانمار کی اپوزیشن کی لیڈر آنگ سان سو چی نے اسے نسل کشی قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے.

ابنا: سو چی کا کہنا ہے کہ کیونکہ اس تشدد میں کچھ بودھوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، اس لئے اسے مسلمانوں کا قتل عام قرار دینا ٹھیک نہیں ہے.

واضح رہے کہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی نے ملک میں مسلم اقلیتوں کے خلاف نسلی تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف کبھی آواز بلند نہیں کی اسی لیے ماضی میں بھی عالمی سطح پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا.

سینکڑوں سالوں سے میانمار میں رہ رہے مسلمانوں کو ابھی تک حکومت نے میانمار کا شہری تسلیم نہیں کیا ہے. اقوام متحدہ کے مطابق میانمار کے روهنگيا دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی قوم ہے۔

.......

/169