ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ہمسایہ ملکوں کو مورد الزام ٹھہرا کر ترکی اپنے مسائل حل نہیں کرسکتا۔
ایسنا نیوز کے مطابق مرضیہ افخم نے ترکی کے نائب وزیر اعظم بشیر آتالای کے بیان میں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ملکوں پر الزام لگانے سے ترکی کے وہ مسائل جن کا سرچشمہ داخلی ہے حل نہیں ہوسکتے۔ ترک نائب وزیر اعظم نے الزام لگایا ہے کہ ایران اور یورپی ممالک انقرہ اور پی کے کے گروپ کے مذاکرات میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ مرضیہ افخم نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر اس روش کی حمایت کرتا ہے جس سے علاقے کے ملکوں میں امن و صلح قائم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ترکی میں قیام امن ایران اور پورے علاقے کی سکیورٹی پر بھی مثبت اثرات کا حامل ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران اور ترکی کے تعلقات باہمی احترام کے اصول پر استوار ہیں انہوں نے کہا کہ ترکی کے ساتھ ایران کا سکیورٹی تعاون ترکی کے بہت سے سکیورٹی مسائل کے کم ہونے کا سبب بنا ہے اور یہ ایران کی نیک نیتی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ترک نائب وزیر اعظم نے اس طرح کے بیان دئیے تھے اور یہ بیان ایسے حالات میں سامنے آرہا ہے کہ ایران اور ترکی کے حکام اعلی سطح پر ملاقاتوں اور مذاکرات کے لئے صلاح و مشورے کررہے ہیں۔
واضح رہے ترک نائب وزیر اعظم بشیرآتالائي نے ترکی کے ایک ٹی وی چينل سے گفتگو میں الزام لگایا تھا کہ ایران اور بعض یورپی ممالک انقرہ اور پی کے کے گروپ کے مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
ایسنا نیوز کے مطابق مرضیہ افخم نے ترکی کے نائب وزیر اعظم بشیر آتالای کے بیان میں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ملکوں پر الزام لگانے سے ترکی کے وہ مسائل جن کا سرچشمہ داخلی ہے حل نہیں ہوسکتے۔ ترک نائب وزیر اعظم نے الزام لگایا ہے کہ ایران اور یورپی ممالک انقرہ اور پی کے کے گروپ کے مذاکرات میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ مرضیہ افخم نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر اس روش کی حمایت کرتا ہے جس سے علاقے کے ملکوں میں امن و صلح قائم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایران اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ترکی میں قیام امن ایران اور پورے علاقے کی سکیورٹی پر بھی مثبت اثرات کا حامل ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران اور ترکی کے تعلقات باہمی احترام کے اصول پر استوار ہیں انہوں نے کہا کہ ترکی کے ساتھ ایران کا سکیورٹی تعاون ترکی کے بہت سے سکیورٹی مسائل کے کم ہونے کا سبب بنا ہے اور یہ ایران کی نیک نیتی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ترک نائب وزیر اعظم نے اس طرح کے بیان دئیے تھے اور یہ بیان ایسے حالات میں سامنے آرہا ہے کہ ایران اور ترکی کے حکام اعلی سطح پر ملاقاتوں اور مذاکرات کے لئے صلاح و مشورے کررہے ہیں۔
واضح رہے ترک نائب وزیر اعظم بشیرآتالائي نے ترکی کے ایک ٹی وی چينل سے گفتگو میں الزام لگایا تھا کہ ایران اور بعض یورپی ممالک انقرہ اور پی کے کے گروپ کے مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲