ابنا: جمعے کے روز گروپ ٹوينٹي کے رکن ملکوں کے وزرائے خزانہ اور مرکزي بينکوں کے سربراہوں نے اپنے مشترکہ بيان ميں حکومت امريکہ سے اپيل کي ہے کہ وہ بجٹ اور قومي قرضوں کي حد کے بارے ميں پيدا ہونے پر جلد از جلد قابو پانے کي کوشش کرے-
اس بيان پر دستخط کرنے والے ملکوں نے امريکہ ميں پيدا ہونے والے تعطل اور عالمي معيشت پر اس کے ناگوار اثرات کے بارے ميں گہري تشويش کا اظہار کيا ہے-اس بيان ميں عالمي شرح نمو کو درپيش ٹھوس چيلنجوں اور بے روزگاري کي شرح ميں اضافہ کي بابت بھي سخت خبردار کيا گيا ہے- اس بيان ميں اس بات کي جانب بھي اشارہ کيا گيا ہے کہ امريکہ ميں پيدا ہونے والي بے يقيني کسي کے بھي مفاد ميں نہيں ہے لہذا اس بحران کو فوري طور پر ختم کرنے کي ضرورت ہے-واضح رہے کہ گروپ ٹوينٹي کے ارکان نے واشنگٹن ميں آئي ايم ايف اور عالمي بينک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ايک دوسرے سے ملاقات اور گفتگو کي ہے جس ميں امريکي بجٹ اور قرضوں کي سطح ميں اضافے کے معاملے پر جاري تعلطل اور عالمي معيشت پر اس کے اثرات کا جائزہ ليا گيا-امريکي ايوان نمائندگان کے ريپبلکن ارکان اور حکومت کے درميان نئي بجٹ تجاويز کے بارے ميں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد حکومت امريکہ کو اپنے بہت سے ادارے اور محکمے بند کرنا پڑے ہيں اور ہرقسم کي غير ضروري سرگرمياں معلطل کردي گئي ہيں-
.....
/169