5 اکتوبر 2013 - 20:30
مامون کا امام جواد (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی بیاہنے کا ہدف

امام محمد تقی (علیہ السلام) کو ام الفضل سے شادی کرنے پر مجبور کرنا/ امام محمد تقی (علیہ السلام) کی شہادت

سوال :مامون نے امام جواد (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کی شادی کیوں کی تهی؟جواب : مامون اپنی حکومت کی سیاست کے سخت اور دشوار شرایط میں پھنس گیا تھا ،اس نے اس سے رہائی حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خاندان سے نزدیک کرنے کا ارادہ کیا اور اسی وجہ سے وہ آٹھویں امام کو ولی عہدی کا عہدہ دے کر اپنی سیاست کے کئی پہلوئوں تک پہنچنا چاہتا تھا ۔دوسری طرف بنی عباس مامون کے اس طور طریقہ سے جس میں یہ احتمال دیا جارہا تھا کہ مامون خلافت کو بنی عباس سے علویوں میں منتقل کرنا چاہتے ہے، بہت ناراض تھے ،اسی وجہ سے انہوں نے مامون کی مخالفت کی اور جب امام کو مامون نے زہر سے شہید کردیا تو وہ خاموش اور راضی ہوگئے اور مامون کے پاس چلے گئے ۔مامون نے امام رضا (علیہ السلام) کو بہت ہی پوشیدہ طور پر زہر دیا تھا تاکہ معاشرہ میں کوئی اس کے اس جرم سے واقف نہ ہو ، اسی وجہ سے وہ اپنے جرم کو چھپانے کے لئے عزادار ی کررہا تھا ۔ لیکن تمام تر پردہ پوشی اور ریاکاری کے باوجود علویوں پر یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ امام (علیہ السلام) کو زہر دینے والا مامون کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ، لہذا وہ بہت ہی آزردہ خاطر اور ناراض ہوئے اور مامون نے دوبارہ اپنی حکومت کو خطرہ میں دیکھا اور اس نے اس خطرہ سے بچنے کے لئے دوسرا حربہ استعمال کیا اور امام جواد (علیہ السلام) سے اظہار محبت اور مہربانی کے ذریعہ اپنی بیٹی کی شادی امام سے کرنے کا ارادہ کیا تاکہ ولی عہدی کے ذریعہ سے جو فائدہ اٹھا چکا تھا اب وہ اس شادی کے ذریعہ اپنے دوسرے اہداف تک پہنچ سکے ۔اسی بنیاد پر اس نے ٢٠٤ ہجری کو یعنی امام رضا (علیہ السلام) کی شہادت کے ایک سال بعد امام جواد (علیہ السلام) کو مدینہ سے بغداد بلایا اور اپنی بیٹی ام الفضل کی شادی امام محمد تقی (علیہ السلام) سے کردی ۔مامون نے اس شادی کے ذریعہ کامل طورپر سیاسی فائدے اٹھائے اور اس شادی کے متعلق مطالعہ کرنے سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نے مندرجہ ذیل اہداف کی وجہ سے یہ شادی کی تھی :١۔ اپنی بیٹی کو امام کے گھر بھیج کر کامل طور پر آپ پر نظر رکھنا چاہتا تھا تاکہ آپ کے کاموں سے بے خبر نہ رہے (مامون کی بیٹی بھی اپنے باپ کو اچھی طرح تمام باتوں سے باخبر کرتی رہتی تھی اور تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے ) ۔٢۔ اس شادی کے ذریعہ وہ اپنے خام خیال میں امام کو عیش و نوش کی زندگی سے مرتبط اور آپ کو لہو و لعب او رفسق و فجور میں لانا چاہتا تھا تاکہ اس طرح امام کی قداست پر بھاری ضرب لگا سکے اور آپ کو عام لوگوں کی نظر میں عصمت و امامت کے مقام سے ساقط کرسکے ۔٣۔ اس شادی کے ذریعہ علویوں کو اپنے خلاف اعتراض اور قیام سے روک سکے اور اپنے آپ کو ان کا چاہنے والا ظاہر کر سکے (١) ۔٤۔ مامون کا چوتھا ہدف عوام فریبی تھا ،جیسا کہ وہ کہتا تھا : میں نے یہ شادی اس لئے کی ہے تاکہ میری بیٹی ابوجعفر (علیہ السلام) سے صاحب فرزند ہو اور میں اس بچے کا نانا بن سکوں جو پیغمبر اکرم (ص) اور علی (ع) کی نسل سے ہے ۔ لیکن بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ مامون کا یہ دھوکا بھی پورا نہ ہوسکا (٢) اور امام جواد (علیہ السلام) کے ام الفضل سے کوئی اولاد نہیں ہوئی (٣) ۔١۔ پیشوای نہم حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) ، موسسہ در راہ حق ، قم ، ١٣٦٦ ھ.ش. صفحہ ٣٨ ۔٢۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، نجف، المطبعة الحیدریة ، ١٣٨٤ ، ھ.ق. ، جلد ٣، صفحہ ١٨٩ ۔ ابن شہر آشوب ، مناقب آل ابی طالب، قم ، المطبعة العلمیة، جلد ٤، صفحہ ٣٨٠۔ مامون نے اس سے پہلے بھی اسی ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ایک بیٹی کی شادی آٹھویں امام سے کی تھی اوراس میں بھی وہ ناکام رہا تھا ۔٣۔ مہدی پیشوائی کی کتاب سیرہ پیشوایان سے منقول ، صفحہ ٥٥٦ ۔

امام محمد تقی (علیہ السلام) کو ام الفضل سے شادی کرنے پر مجبور کرناسوال: امام محمد تقی (علیہ السلام) مامون کی بیٹی سے شادی کرنے پر کیوں راضی ہوئے ؟جواب : اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام محمد تقی (علیہ السلام) مامون کے حقیقی اہداف و مقاصد کو اچھی طرح جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے آپ کے والد امام رضا (علیہ السلام) کو قتل کرکے بہت بڑا جرم کیا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ امام اس شادی پر مجبوری کی حالت میں راضی ہوئے کیونکہ مامون نے پہلے سے آپ پر بہت فشار ڈال رکھا تھا ، کیونکہ اس طرح کی شادی صرف مامون کے فائدہ میں تھی ،امام علیہ السلام کے فائدہ میں نہیں تھی ! ۔یہ بھی تصور کیا جاسکتا ہے کہ امام ، دربار سے اس لئے نزدیک ہوئے تاکہ معتصم آپ کو قتل نہ کرسکے اور آپ کے چاہنے والے شیعہ اور بہترین شاگرد ، خلیفہ کے نقصان سے بچ سکیں اور یہ بھی اسی طرح سے ہوسکتا ہے جس طرح علی بن یقطین نے ہارون کی وزارت کو قبول کرکے دربار میں نفوذ کیا تھا اور شیعوں کو اس سے بہت فائدہ ہوا تھا ۔امام محمد تقی (علیہ السلام کے ایک صحابی حسین مکاری کہتے ہیں : بغداد میں امام محمد تقی (علیہ السلام) کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور میں نے ان کی زندگی کو دیکھا اور اپنے دل میں سوچا کہ اب تو امام کو بہت ہی زیادہ اچھی زندگی حاصل ہوگئی ہے لہذا آپ کبھی بھی مدینہ واپس نہیں جائیں گے ۔ امام علیہ السلام نے ایک لمحہ کے لئے اپنا سر نیچے کی طرف جھکایا اور پھر جب آپ نے سر بلند کیا تو آپ کے چہرہ کا رنگ زرد ہورہا تھا ، فرمایا : اے حسین ! رسول خدا (ص) کے حرم میں جو کی روٹی اور نمک میرے لئے اس چیز سے اچھا ہے جس میں تم مجھے دیکھ رہے ہو (١) ۔اسی وجہ سے امام محمد تقی (علیہ السلام) بغداد میں نہیں رہے اوراپنی بیوی ام الفضل کے ساتھ مدینہ واپس آگئے اور ٢٢٠ ہجری تک مدینہ ہی میں زندگی بسر کرتے رہے (٢) ۔ ١۔ راوندى،، الخرائج والجرائح، تصحيح و تعليق: حاج شيخ اسداللهََ ربّانى، انتشارات مصطفوى، ج 1، ص 344 - مجلسى، بحار الأنوار، تهران، المكتبه الاسلاميه، 1395 ه". ق، ج 50، ص 48 - قزوينى،، سيد كاظم، الامام الجواد من المهد اًّلى اللحد، الطبعه الأولى، بيروت، مؤسسه البلاغ، 1408 ه". ق، ص 152.٢۔ گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 558.

امام محمد تقی (علیہ السلام) کی شہادتسوال :امام محمد تقی (علیہ السلام) کی شہادت کس طرح ہوئی ؟جواب : ٢١٨ ہجری میں مامون کا انتقال ہوگیا اوراس کے بعد اس کا بھائی معتصم اس کی جگہ پر بیٹھ گیا ۔ اس نے ٢٢٠ ہجری میں امام محمد تقی (علیہ السلام) کو مدینہ سے بغداد بلوایا تاکہ نزدیک سے آپ پر نظر رکھ سکے ۔ لہذا ایک مجلس میں چور کا ہاتھ کاٹنے کی جگہ کو معین کرنے کے لئے امام علیہ السلام کو بھی بلوایا اور بغداد کاقاضی ابن ابی دائود اور دوسرے فقہاء کو شرمندہ ہونا پڑا اور اس کے چند روز بعد ابن ابی دائود بغض و حسد کی وجہ سے معتصم کے پاس گیا اور اس سے کہا : میں خیر خواہی کی بنیاد پر تمہیں متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ واقعہ حکومت کے فائدہ میں نہیں ہے کیونکہ تم نے تمام علماء اور حکومتی عہدیداروں کے سامنے ابوجعفر (امام جواد ) کے فتوی کے دوسروں کے فتووں پر ترجیح دی ہے اور امام محمد تقی وہ ہیں جن کو آدھے مسلمان خلافت کا مستحق اور تمہیں غاصب سمجھتے ہیں ،یہ خبر تمام لوگوں کے درمیان منتشر ہوگئی اور یہ خود ایک بہترین دلیل ان کی حقانیت پر قائم ہوگئی ۔معتصم ،امام محمد تقی (علیہ السلام) سے بہت زیادہ دشمنی رکھتا تھا لہذا ابن ابی دائود کی باتوں سے اور زیادہ مشتعل ہوگیا اور امام کو قتل کرنے کے متعلق چارہ جوئی کرنے لگا اور آخر کار اس نے اپنے ارادہ کو مصمم کرلیا اور امام کو اپنے ایک وزیر کے ذریعہ زہر دلادیا (١) ۔شہادت کے وقت امام محمد تقی (علیہ السلام) کی عمر پچیس سال اور چند ماہ تھی (٢) ۔(٣) ۔١۔ عياشى، كتاب التفسير، تصحيح و تعليق: حاج سيد هاشم رسولى محلاتى،، قم، المطبعه العلميه، ج 1، ص 320 - مجلسى، همان كتاب، ص 7 - پيشواى نهم...، مؤسسه در راه حق، ص 41 - قزوينى، همان كتاب، ص . امام محمد تقی (علیہ السلام) کی شہادت کے متعلق اور بھی بہت سے اقوال ذکر ہوئے ہیں جن کو اختصار کی وجہ سے یہاں پر ذکر نہیں کیا ہے ، زیادہ تفصیل جاننے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں میں مراجعہ فرمائیں : ابن شهر اشوب، مناقب آل ابى طالب، ج 4، ص 380 - مجلسى، بحار الأنوار، ج 50، ص 8 و 9 - فتّال نيشابورى، روضه الواعظين، ص .267۔٢۔ شيخ مفيد، الارشاد، قم، مكتبه بصيرتى،، ص 326 - مجلسى، همان كتاب، ص 7 - محمد بن جرير بن رستم الطبرى،، دلائل الامامه، الطبعه الثالثه، قم، منشورات الرضى،، 1363 ه". ش، ص .208٣۔ گرد آوری از کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 563.

.....

/169