23 ستمبر 2013 - 20:30

مڈل ایسٹ مانیٹر نامی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ آل سعود کے حکام نے صیہونی حکومت کی سفارتکاری کی حمایت کرکے مصر میں فوجی بغاوت کو کامیاب بنایا ہے۔

ابنا: مڈل ایسٹ مانیٹر نے لکھا ہے کہ جس طرح سے آل سعود نے مصری عوام کے انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکہ کو مصر کےسابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حمایت کرنے کی ترغیب دلائي تھی اسی طرح آج مصر نے صیہونی حکومت کی سفارتکاری کی حمایت کرتے ہوئے مصر کی فوجی بغاوت کی ہدایت کررہی ہے۔ برطانیہ کی نیوز ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ آل سعود اپنے پٹرول کی دولت سے دنیا کے مختلف علاقوں میں موت کا بازار گرما رہی ہے اور مختلف ملکوں میں تباہی اور ویرانی پھیلارہی ہے۔ اس ویب سائٹ کے مطابق شام میں جنگ کے شعلے بھڑکانے کی ذمہ دار بھی آل سعود ہی ہے اور لبنان میں دہشتگردانہ بم دھماکوں کا الزام بھی آل سعود پر ہی عائد ہوتا ہے۔ مڈل ایسٹ مانیٹر نے لکھا ہے کہ اسلامی ملکوں میں عوامی تحریکوں کےشروع ہونے کے بعد سعودی صیہونی اتحاد روز بروز مضبوط ہوتاجارہا ہے اور سعودی و صیہونی حکومتیں عوامی تحریکوں کوناکام بنانے کے لئے ہمہ تن سرگرم عمل ہیں۔ اس اخبار نے سعودی اور صیہونی حکومتوں کو علاقے کی ڈکٹیٹر حکومتيں قراردیا۔ برطانیہ کی اس ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ آل سعود اپنے پیسے سے نہ صرف علاقے کو نابودی کی طرف ڈھکیل رہی ہے بلکہ یہ پیسہ ان ذارئع ابلاغ کی جیبوں میں بھی جا رہا ہے سعودی عرب کے ڈکٹیشن کے  تحت آل سعود کر مفادات اور قومی و فرقہ وارانہ تعصب نیز نفرت پھیلانے کے اھداف کے لئے کام کررہے ہیں۔ قابل ذکر ہے سعودی عرب نے مصر کی فوج کی حمایت کرتے ہوئے مصر کے پہلے منتخب صدر کی عوامی حکومت کو گرانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ بعض ذرائع نے یہ بھی رپورٹ دی تھی کہ سعودی عرب نے مصر کی فوج کے سربراہ جنرل سی سی کو صدر محمد مرسی کی حکومت گرانے کےلئے ایک ارب ڈالر رشوت دی تھی۔....... 

/169