ابنا: بنیادی آئين میں اصلاح کی کمیٹی کے ترجمان نے مزید کہا کہ حتمی طورپر صدر مملکت ، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں توازن موجود ہونا چاہیے اور بنیادی آئین میں اصلاح کی کمیٹی بھی بنیادی آئین میں اس موضوع کی رعایت کے لئے بھی کوشش کرے گی۔ نئے بنیادی آئین کی تدوین ان ملکوں کے لئے اہم مسئلہ ہے کہ جو عوامی جمہوری نظام کی تشکیل کے مراحل میں ہیں۔نئے مصر میں بھی نئے بنیادی آئین کی تدوین ، اہم موضوع ہے کہ جس نے گذشتہ سال کے آخر سے اس ملک کے برطرف ہونے والے صدر محمد مرسی کے خلاف وسیع احتجاجات کے آغاز کے لئے زمین فراہم کی۔ مرسی کے لیبرل مخالفین کا خیال تھا کہ دین مبین اسلام کو بنیادی آئین کی ایک اصل کے عنوان سے قرار دینا ، اس ملک کے تمام عوام خاصطور پر اقلیتوں کے مطالبات کو پورا نہیں کرسکتا۔ محمد مرسی کے سلفی مخالفین کا بھی یہ خیال تھا کہ کہ اس ملک کے نئے بنیادی آئین میں دین مبین اسلام کی اصل و اساس اور اس کی روح پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس روسے نئے بنیادی آئین کی تدوین محمد مرسی کے ساتھہ مخالفین کی مخالفتوں کا نقطہ آغاز تھا اور مخالفتوں کا یہ سلسلہ مصر میں فوجی کودتا اور اس ملک کے منتخب صدر کی برطرفی پر منتج ہوا۔ محمد مرسی کی برطرفی کے فورا بعد مصر کی عبوری حکومت کا پہلا اقدام ، مرسی کے دور اقتدار میں منظور ہونے والے بنیادی آئین کی منسوخی اور اس ملک میں نئے بنیادی آئین کی تدوین کے لئے کوشش کرنا تھا۔ اس ہدف کے حصول کے لئے ، بنیادی آئین میں اصلاح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی اور اس کمیٹی میں سیاسی جماعتوں اور مصر کی سماجی تنظیموں کے 50 نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے۔50 ارکان پر مشتمل اس کمیٹی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بنیادی آئین میں نظرثانی اور اس کی اصلاح کرے۔ اس کمیٹی کے سربراہ عمرو موسی نے کچھہ دنوں قبل نئے بنیادی آئین کی تدوین کے لئے اس کمیٹی کی کوشیشوں کی خبر دی کہ جس پر النور سلفی جماعت نے اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ مصر کے بنیادی آئین میں اصلاح کی کمیٹی کے ترجمان اس وقت بنیادی آئین میں ، مجریہ ، مقننہ ، اور عدلیہ کو مستقل رکھنے اور اس کو ڈیموکراٹیک نظام کی تشکیل کے مترادف قرار دے رہے ہیں لیکن مصر کے معاشرے میں موجود قرائن و شواہد سے نشاندہی ہوتی ہے کہ بنیادی آئین میں اصلاح کی کمیٹی کی سرگرمیاں ، اخوان المسلمین کے خلاف انجام پانے والے فوجی کودتا کا تسلسل ہیں۔ایک طرف مصر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے عنوان سے اخوان المسلمین کا اس کمیٹی میں کوئی نمائندہ ہی نہیں ہے اور عبوری حکومت کی جانب سے اخوان المسلمین کو توڑنے کی دہمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔ دوسری طرف مجریہ ، مقننہ اور عدلیہ کو مستقل کرنا ڈیموکریٹک نظام کی تشکیل کا صرف ایک شعبہ شمار ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر شعبوں میں سیاسی جماعتوں کو سیاسی آزادی ، عوام کی آراء کا احترام ، بنیادی آئین پر عمل درآمد اور اقتدار کی پر امن منتقلی جمہوری نظام کی تشکیل کے دیگر اہم موارد ہیں۔ حالیہ ایک سال کے دوران اخوان المسلمین یا خود محمد مرسی کے مخالفین کی جانب سے ان میں سے کسی بھی ایک مورد کا احترام نہیں کیا گیا اور اس ملک کا اقتدار ، عوام کی آراء کو نظر میں رکھے بغیر غیر قانونی طریقوں سے منتقل کیا گيا۔ اس لحاظ سے مصر میں نئے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کے لئے بنیادی آئین میں اصلاح کی کمیٹی کی سرگرمیاں ، مرسی اور اخوان المسلمین کے خلاف فوجی کودتا کا جاری تسلسل ہے۔
.......
/169