ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق عراق کی سیاسی پارٹیوں اور سماجی شخصیتوں نے سعودی عرب کے بادشاہ کی جانب سے پانچ سو قبائلی عمائدین کو حج کرنے اور سعودی حکام سے ملاقات کرنے کی دعوت کو فتنہ انگيزی اور عراق کے داخلی امور میں مداخلت قراردیا۔عراقی پارلیمنٹ میں دفاعی کمیشن کے سربراہ حسن سنید نے کہا کہ سعودی عرب کے تفرقہ اندازی کے مقابلے میں عراقی قبائل متحد ہیں۔ ادھر پارلیمنٹ کے ایک اور رکن حبیب طرفی نے کہا کہ علاقے میں بدامنی پھیلانے میں آل سعود نہایت گھناؤنا کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب چاہتا ہےکہ عراق میں جمہوریت کو فروغ حاصل نہ ہو اور عراق کے ماحول کو بھی اپنی ملک کی طرح سے گھٹن کے ماحول میں تبدیل کر دے۔عراق کے قبائلی عمائدین نے سعودی عرب کی فتنہ انگيز دعوت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب، عراق، شام اور لیبیا کے عوام کے قتل عام میں ملوث ہے اور سعودی بادشاہ کو جان لیناچاہیئے کہ عراقی قبائل زر خرید نہیں ہیں۔......./169
14 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 463245
عراق کے قبائيلی عمائدین نے ملک میں فتنے کی آگ بھڑکانے کی وجہ سے سعودی عرب کی شدید مذمت کی ہے۔