11 ستمبر 2013 - 19:30
ہندوستان، مظفرنگر کی موجودہ صورت حال

ہندوستان کے شہر مظفرنگر میں اب حالات رفتہ رفتہ بہتر ہو رہے ہیں اور کرفیو میں پانچ گھنٹے کی نرمی کی گئی ہے۔

ابنا: مظفرنگر کے ڈی ایم مہارت شرما کا کہنا ہے کہ ضلع میں حالات قابو میں ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دوسری جانب انسپکٹر جنرل اشیش گپتا نے کہا ہے کہ باغپت کے تيرتھل گاؤں میں دو فرقوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں دونوں فریقوں نےایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔ اس واقعے میں ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہوا۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے مغربی علاقے کے مختلف اضلاع میں ہوئی جھڑپوں میں 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مظفرنگر میں 34 لوگوں کے مارے جانے کے علاوہ میرٹھ میں دو اور ہاپڑ ، باغپت ، سہارنپور اور شاملی میں ایک - ایک شخص کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ادھر آگرہ میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو نے الزام لگایا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتیں مظفرنگر اور اس سے ملحق علاقوں میں حالات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے چاہے ریاستی حکومت کو بڑے سے بڑا قدم اٹھانے کی ضرورت کیوں نہ پڑے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کی طرف سے بھی فرقہ وارانہ تشدد کے پیچھے سیاسی سازش کا خدشہ جتائے جانے پر مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے نئی دہلی میں کہا ہے کہ جب تک انھیں مظفرنگر میں تشدد کے بارے میں مکمل رپورٹ نہیں مل جاتی، سیاسی سازشوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اس میں ملوث ہو سکتی ہیں۔ ہندوستان کے وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ نیم فوجی دستوں کی 80 کمپنیاں اتر پردیش کے ان علاقوں میں تعینات کی گئی ہیں۔......./169