10 ستمبر 2013 - 19:30
تہران جوہری معاملے پر دنیا سے مذاکرات پر تیار

اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے کہا ہے کہ تہران پانچ جمع ايک گروپ، آئي اے اي اے اور دنيا کے ساتھ جوہري معاملے پر سنجيدہ مذاکرات کے لئے تيار ہے ليکن اپنے عوام کو ان کے مسلمہ حقوق سے ذرہ برابر بھي محروم نہيں کرے گا ۔

ابنا: انہوں نے منگل کي رات ايران کے سرکاري ٹيلي ويژن چينل سے براہ راست گفت‍گو ميں کہا کہ ايران چاہتا ہے کہ اندرون ملک يورينيئم کي افزودگي سميت اس کے مسلمہ جوہري حقوق کو باضابطہ طور پر تسليم کرليا جائے۔ صدر حسن روحاني نے کہا کہ ہم جوہري مذاکرات کو آگے بڑھانے اور اس معاملے کو منطق، دليل اور عزت و حکمت کے ذريعے حل کرنے کي کوشش کر رہے ہيں۔انہوں نے يہ بات ايک بار پھر زور ديکر کہي کہ مغرب والوں کو ملت ايران کے ساتھ منطق اور احترام کي بنياد پر بات چيت کرنا چاہيے۔
صدرڈاکٹر حسن روحاني  نے واضح کيا کہ ايران سے دھمکيوں اور دباؤ کي زبان ميں بات کرنے کا کوئي نتيجہ برآمد نہيں ہوگا۔  صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحاني نے  کہا ہے کہ تہران شام ميں فوجي مداخلت کي روک تھام کي ہر تجويز کا خير مقدم کرتا ہے۔  صدر حسن روحاني کا کہنا تھا کہ ايران ہر اس اقدام کي حمايت کرتا ہے جس سے شام کے خلاف فوجي مداخلت روکنے ميں مدد ملے۔
انہوں نے شام کے خلاف جنگ کے نتائج کي بابت خبردار کرتے ہوئے ايک بار پھر يہ بات زور ديکر کہي کہ جنگ شروع کرنے والے اس کے شعلوں سے اپنا دامن نہيں بچا سکيں گے۔ انہوں نے کہا کہ حاليہ دو ہفتوں کے دوران حکومت ايران نے  شام کے خلاف ممکنہ جنگ کي روک تھام کي غرض سے بھرپور سفارتي کوششيں کي ہيں۔ صدر حجت الاسلام روحاني نے کہا کہ   تحريک مزاحمت کے اگلے مورچے کي حثيت سے  شام ،ہمارے لئے انتہائي اہميت رکھتا ہے۔
.....
/169