ابنا: چین کے صدر جی جیپنگ کے دورۂ ازبکستان میں ہمراہی کرنے والے چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت میں بیجنگ کا رخ صاف کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ شام کا مسئلہ، مذاکرات سے حل ہوسکتا ہے اور اگر اس کے خلاف کسی کاروائی کی ضرورت ہوتی بھی ہے تو وہ کاروائی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جواز حاصل کئے بغیر نہیں ہونی چاہیئے۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری کو شام کے مسئلے پر دو اصول کو ماننا چاہئے۔ پہلا بین الاقوامی تعلقات کے معیار پر ثابت قدم رہنا اور دوسرا کسی بھی طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو خارج کرنا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ، کسی بھی مسئلے کا حل نہیں تاہم ضرورت کی فوجی کاروائی بھی صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرے میں ہی ہوسکتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ایسی حالت میں جبکہ شام صدر مستقل اپنے دعوے پر تاکید کررہے ہیں کہ دمشق کی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کئے گئے ہیں امریکہ، شام کے بحران کے سلسلے میں عالمی برادری کے نظریات نظر انداز کرکے اس ملک کے خلاف فوجی کاروائی کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔جبکہ پوری دنیا کا یہ کہنا ہے کہ فوجی کاروائی سے مسئلہ نہ صرف حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے بھیانک نتائج بھی برآمد ہوں گے اور پھر جنگ کا خاتمہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
8 ستمبر 2013 - 19:30
News ID: 461084
چین نے کہا ہے کہ شام کا مسئلہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت حل کیا جانا چاہئے۔