ابنا: صہیونی ریاست نے غزہ کا محاصرہ جاری رکھ کر فلسطینی عوام کی زندگی کے لئے شدید مشکلات پیداکردی ہیں ۔موصولہ رپورٹوں کے مطابق حالیہ دنوں کے دوران غاصب صہیونی ریاست کے جنگی طیّاروں اور ہیلی کاپٹروں نے وسیع پیمانے پر غزہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور فلسطینی گروہوں نے بھی بارہا غزہ میں صہیونی فوجیوں کی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔سیاسی مبصرین غاصب صہیونی ریاست کی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کے اس نئے دور کو اس غاصب حکومت کے توسیع پسندانہ اہداف میں شامل قرار دیتے ہوئے یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ غاصب صہیونی ریاست اپنی طاقت کے مظاہرے اور رعب و وحشت پھیلاکر اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے سامنے فلسطینیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے درپے ہے۔غاصب صہیونی ریاست خطّہ پر حکمراں جنگی فضا اور خاص طورسے شام کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینیوں کے خلاف تشدد آمیز اقدامات میں تیزی لاکر خطہ میں اپنے توسیع پسندانہ اہداف کا جائزہ لینے کے درپے ہے۔دوسری جانب فلسطینی ذرائع ابلاغ نے خاص طور سےغزہ کے جاری محاصرے کے باعث ایندھن کا شدید بحران پیداہونے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔حقیقت امر یہ ہے کہ مصر کی اندرونی صورت حال کی تبدیلی، نیز مصری فوج کے ذریعہ گزرگاہ رفح بند کئے جانے کے سبب صہیونی ریاست کےذریعہ غزہ کےمحاصرے کےسنگین اور خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔غاصب صہیونی ریاست نے دوہزار سات سے غزہ کا محاصرہ مزید سخت کردیاہے۔ بنیادی ضرورتوں کے سامان خاص طور پر ایندھن بھی لےجانے پر پابندی لگارکھی ہےاور اب مصری صدر محمد مرسی کے اپنے عہدے سے معزول ہونے کے بعد فلسطینی عوام اور فلسطینی گروہوں کے رہنماؤں کو مصری فوج اور صہیونی حکومت کے فلسطینیوں کے خلاف مشترکہ تشدد آمیز اقدامات میں اضافہ کے امکان پر تشویش لاحق ہے۔قابل ذکر ہے کہ مصری حکام نے محتلف مراحل میں غزہ کے محاصرے سے متعلق صہیونی حکومت کی پالیسیوں کا ساتھ دیاہے۔مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت غزہ میں فلسطینیوں کے محاصرے میں وسیع پیمانے پر غاصب صہیونی ریاست کی مدد کرتی تھی۔مصری حکام نے مصری سرحد پر واقع گزرگاہ رفح بند رکھے جانے اور خاص طور پر غزہ کے محاصرے اور فلسطینیوں پر جارحیت جاری رکھنے میں ہمیشہ صہیونی ریاست کی ہمراہی کی ہے ۔مصرنے اسی طرح سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کے دور میں امریکہ کے تعاون سے غزہ اور مصر کی سرحد پر آہنی حائل دیوار کی تعمیر کا آغاز کیا تھا۔اور حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ پلٹے جانے کے باوجود مصری حکام نے نہ صرف آہنی دیوار منہدم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق اسے مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا اور موجودہ اقدامات اسی تناظر میں قابل غور ہیں۔ مصری فوجی اقدامات ایسی حالت میں انجام پارہےہیں کہ مصری عوام غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے ملک کے معاہدوں کو منسوخ کئے جانے کے ہمیشہ خواہاں رہے ہیں تاہم ایسا نظر آتاہے کہ مصر کے فوجی حکام مصری عوام کے مطالبہ کے برخلاف غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ سیاسی اقتصادی اور سیکورٹی تعلقات برقراررکھنے کے درپے ہیں ۔
.......
/169