ابنا: فرینٹیئر پوسٹ کی رپورٹ کےمطابق امریکی وزارت خزانہ نے منگل کےدن پاکستان کےشہر پیشاور کےایک دینی مدرسے دینی گنج پر القاعدہ اور طالبان کی حمایت کاالزام لگاتے ہوئے اسے دہشتگردوں کی ٹریننگ کااڈہ قرار دیا اور اس پرپابندی عائد کردی حکومت امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس مدرسے میں لشکر طیبہ کا مکمل عمل دخل ہے اور یہ گروہ ہندوستان کے شہر ممبئی کے سنہ 2008 کے حملوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے جن میں 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے قبل سنہ 2009 میں امریکا اور اقوام متحدہ نے پاکستان کے اس مدرسے کے اعلی عہدیداروں کو دہشتگرد قرار دیا تھا۔یہ پہلی بار ہے جب امریکہ پاکستان کے کسی دینی مدرسے پرپابندی عائدکررہا ہے اس مدرسے کےساتھ ہرطرح کی تجارت اور لین دین کوممنوع قراردے دیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دینی گنج کےخلاف عائد الزامات کے پیش نظر امریکہ کی وزارت خزانہ کی جانب سےعائدکی جانےوالی پابندیاں دیرسےعائدکی گئی ہیں اورقابل غور ہیں۔کیونکہ امریکہ نے سن دوہزارایک میں دہشگردگروہوں اور القاعدہ سے جنگ کےبہانے پاکسان کی مدد سے افغانستان پرحملہ کرکے اس ملک پرقبضہ کرلیا تھا۔ اس کےبعد سے امریکی حکام نے پاکستان کےدینی مدرسوں کوانتہاپسندی کوفروغ دینے اور طالبان نیزالقاعدہ جیسے تشدد پسندگروہوں کا حامی اور مددگار قرار دے دیا تھا اوراس وقت کےپاکستانی صدر پرویزمشرف سےمطالبہ کیا کہ وہ دینی مدرسوں کےخلاف کاروائی کریں۔ جنرل پرویزمشرف نے دینی مدرسوں کو کمپیوٹرائيز اور نصاب تعلیم میں تبدیلی پیداکرکے ان کی سرگرمیوں پرنظررکھنےاورانھیں اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی لیکن زيادہ کامیاب نہيں ہوسکے۔ دوہزار آٹھ میں پیپلس پارٹی کےبرسراقتدارآنے کےبعداس نے مدرسوں پرنگرانی رکھنے میں زيادہ دلچسپی نہيں دکھائی اورمذہبی گروہوں کےساتھ الجھنے سےپرہیز کیا اب جب پاکستان میں مسلم لیگ نون برسراقتدار ہے اور کہاجاتا ہے کہ محمدنوازشریف کے مذہبی گروہوں سےروایتی تعلقات ہيں پیشاور میں دینی گنج مدرسے پرپابندی قابل غور ہے کیونکہ نوازشریف نے دہشتگردگروہوں کامقابلہ کرنے کےلئے جامع قومی پالیسی مرتب کرنے کےلئے مذہبی اورسیاسی گروہوں کی شراکت سےقومی اجلاس کےانعقاد کےلئے بھرپور کوششیں شروع کردی ہیں ۔ اس بنا پرسیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ اگر اسلام آباد حکومت کوبھی دینی گنج مدرسے پرپابندی کےحکم پرعمل کرنا پڑا تو قومی اجلاس کی تشکیل کے لئے اتفاق رائےکے موقع پر نوازشریف حکومت اور اسلام پسند گروہوں کےتعلقات پراس کا منفی اثر پڑسکتا ہے جو اس بات کاثبوت ہے کہ امریکہ ، اسلام آباد حکومت کی کوششوں کوناکام بناناچاہتا ہے۔درایں اثنا بعض سیاسی ماہرین پیشاور کےدینی گنج مدرسے پرپابندی کو سعودی عرب سمیت علاقے کے ان ممالک کےلئے انتباہ سمجھتے ہیں جو اس مدرسے کی مالی مدد کرتے ہيں اورفنڈ فراہم کرتے ہيں تاکہ پاکستان کےدینی مدرسوں پردباؤ پڑے اور واشنگٹن اور طالبان کےدرمیان مصالحت کی راہ ہموار ہو۔بہرحال سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ چونکہ دینی گنج مدرسے پرامریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ہرطرح کی تجارت اور لین دین پر پابندی کازيادہ ترتعلق امریکی اداروں سے ہے اس لئے دہشتگردی کےخلاف دس برسوں سےجاری امریکہ کی نام نہاد جنگ پر بھی سوال اٹھتے ہيں کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے اس طرح کے مدرسوں کو انتہاپسندی اور تشدد پسندی حتی القاعدہ دہشتگردوں کی ٹریننگ کا اڈہ سمجھےجانے کےباوجود وہ ان کےساتھ رابطے میں رہا ہے اور اب ان پرپابندی عائد کررہا ہے۔
.......
/169