28 جولائی 2013 - 19:30
صہیونی ریاست اور ایڈورڈ سعید

فلسطین کے مصنف اور نقاد پروفیسر ایڈورڈ سعید کا شمار بیسویں صدی کی اہم شخصیات میں کیا جاتا ہے کہ جنہوں نے فکر وسوچ کے مختلف شعبوں پر عظیم فکری اثرات مرتب کیے ہیں اور بلاشبہ یہ اثرات مستقبل میں بھی باقی رہیں گے۔ وہ انیس سو پینتیس میں بیت المقدس میں ایک عرب مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے اور دو ہزار تین میں ان کا انتقال ہوا۔

ابنا: پروفیسر ایڈورڈ سعید مسئلہ فلسطین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ کون سی چيز صیہونی یہودیوں اور فلسطینی عربوں کے درمیان نزاع اور اختلاف کا اصلی سبب ہے؟ فلسطینی یہ محسوس کرتے ہیں کہ شہرۂ آفاق جلاوطنی یعنی یہودیوں کی مہاجرت نے انہیں جلاوطن بنا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن فلسطینی یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے قومی تشخص کی حس جلاوطنی کے سماجی اور ثقافتی ماحول میں پروان چڑھی ہے۔وہ انتفاضہ کی حمایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انتفاضہ وہ واحد عربی لفظ ہے جو بیسویں صدی کی دنیا کے سیاسی الفاظ میں شامل ہوا ہے۔ یہ نیا لفظ ایک نئے تشخص کا پرچم ہے، ملت فلسطین کی حقیقی آزادی و استقلال کی ضرورت کا پرچم ہے۔ زندان ک دیوار ٹوٹنے کی آواز ہے۔یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانے میں فلسطینی عوام اور انتفاضہ جیسی تحریکوں کی حمایت صرف مسلمانوں سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ پوری دنیا کے حریت پسند مختلف طریقوں سے صیہونی حکومت کی مخالفت اور فلسطینی عوام کی حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کو بتائیں کہ اس وقت اسرائیل میں تیار کی گئي مصنوعات پر میڈ ان  اسرائیل کا اسٹکر صہونی حکومت کے حکام کے لیے ایک بڑے مسئلے میں تبدیل ہو گيا ہے۔ اسلامی ملکوں کے علاوہ جنوبی افریقہ اور برطانیہ جیسے ممالک نے حتی اپنی مشہور اور بڑی دکانوں سے اسرائیلی مصنوعات اٹھا لی ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں ڈنمارک کی حکومت نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے یہودی علاقے میں تیار شدہ چیزوں پر خبردار کا اسٹکر لگا کر انہیں بازار میں فراہم کرے گي۔ اسی طرح یہ خبریں بھی موصول ہوئي ہیں کہ سوئٹزرلینڈ میں  بھی اس قسم کا فیصلہ کیا گيا ہے اور یہ فیصلہ خریداروں کے مطالبے پر کیا گيا ہے۔اسرائيلی مصنوعات کا یہ بائیکاٹ بی ڈی ایس کے نام سے شروع کی گئی اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم کے ارکان کی وسیع سرگرمیوں کا نتیجہ ہے کہ جو فلسطینیوں کی حمایت کے لیے شروع کی گئي ہے۔ اس مہم کے ارکان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کی خرید و فروخت درحقیقت صیہونی حکومت کے قبضے کو جواز بخشنا اور فلسطینیوں کی اقتصادی طاقت کو کمزور سے کمزور تر کرنا ہے۔لیکن صیہونی حکومت کا علمی بائیکاٹ ایک بین الاقوامی مہم اور کیمپین ہے کہ جو دو ہزار دو سے شروع ہوئي ہے اور برطانوی دانشور ایڈورڈ ہاؤکنگ کی جانب سے اس کی حمایت کے فیصلے سے یہ دنیا کی خبروں کی شہ سرخیوں میں قرار پائي۔ اس طرح فلسطینی دانشور ایڈورڈ سعید کا دیرینہ خواب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گيا۔اسٹیون اور ہلیری روز نے دو ہزار دو میں ایک کھلا خط شائع کر کے اس تحریک کی بنیاد رکھی۔ چھ اپریل دو ہزار دو کو برطانوی اخبار گارڈین میں اوپن یونیورسٹی اور بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے ان دو پروفیسروں اسٹیون اور ہلیری روز کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں ان دونوں نے صیہونی حکومت کے ساتھ ہر قسم کے علمی و ثقافتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جون دو ہزار دو تک سات سو دانشور اس مہم میں شامل ہو چکے تھے۔ ان دانشوروں کی چلائي ہوئي تحریک کے باعث دو ہزار دو سے دو ہزار چار تک صیہونی حکومت کی بہت سی علمی کانفرنسیں منسوخ ہو گئيں اور دنیا کے علمی حلقوں کی توجہ انتفاضہ تحریک اور فلسطین کی حالات کی طرف مبذول ہو گئي لیکن اس مہم میں اہم ترین پیشرفت اس وقت ہوئي جب دو ہزار پانچ میں برطانوی یونیورسٹی کے پروفیسروں کی یونین بھی اس بائیکاٹ مہم میں شامل ہو گئی۔کیلی فورنیا یونیورسٹی کے شعبہ ادبیات کے پروفیسر ڈیوڈ لوئیڈ نے بھی دو ہزار آٹھ میں یونیورسٹی کے پندرہ پروفیسروں کے ساتھ مل کر ایسی ہی ایک مہم شروع کی۔ اس مہم کا دائرہ بعد ازاں امریکہ کی دیگر یونیورسٹیوں تک پھیل گيا اور پروفیسروں کی ایک بڑی  تعداد اس کی رکن بن گئي۔امریکی کے معروف دانشور نوام چامسکی، کیلی فورنیا یونیورسٹی کے اسلامک اسٹڈیز اور فارسی زبان کے پروفیسر حامد الگار اور بن گوریون یونیورسٹی کے سیاسیات کے پروفیسر نیو گورڈن بھی ان افراد میں شامل ہیں کہ جو صیہونی حکومت کے علمی بائیکاٹ کی تحریک میں شامل ہوئے البتہ ان میں سے پروفیسر نیو گورڈن کو اسی بنا پر یونیورسٹی کی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔                    ٭٭٭٭٭برطانیہ کے ممتاز ماہر فزکس اسٹیفن ہاؤکنگ کا شمار رواں صدی کے دنیا کے صف اول کے دانشوروں اور سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ جو علم نجوم اور فلکیات میں اپنے نئے نظریات کی وجہ سے مشہور ہوئے ہیں۔ وہ بھی فلسطینیوں کے ساتھ صیہونی حکومت کے برے سلوک کے خلاف احتجاج کے طور پر صیہونی حکومت کے اکیڈمک بائیکاٹ کی مہم میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے شیمون پرز کی میزبانی میں گزشتہ مہینے ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے اس غاصب حکومت کے علمی بائیکاٹ کی حمایت کی۔ انہوں نے ایک مختصر خط لکھ کر یہ اطلاع دی کہ انہوں نے یہ فیصلہ صیہونی حکومت کے اکیڈمک بائیکاٹ کے احترام میں کیا ہے۔صیہونی حکومت کے بائیکاٹ کی اس مہم میں بہت علمی سیاسی ثقافتی اور ہنری شخصیات کے نام نظر آتے ہیں جن میں سے ایلوس کاسٹیلو (elvis cosello)، راجر واٹرز (roger waters)، اینی لینوکس (annie lennox)، برائن اینو (brian eno) اور مائک لی (mike leigh) کے ناموں کی طرف خاص طور سے اشارہ کیا جا سکتا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس علمی بائيکاٹ میں پھیلاؤ آنے کے بعد صیہونی حکومت کے حکام نے اس پر سخت اور تند و تیز ردعمل ظاہر کیا۔ کچھ عرصہ قبل صیہونی اخبار ہاآرتص نے لکھا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا ملک ایک ایسی جگہ میں تبدیل ہو گيا ہے کہ عام پر لوگ یہاں آنے سے اجتناب کرنے لگے ہیں۔حال ہی میں محسن مخملباف نے کہ جو ایک زمانے میں ایران میں فلمیں تیار کرتے تھے، اسرائیل کا دورہ کیا اور بیت المقدس شہر میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹول میں شرکت کی۔ اس فیسٹول کے صیہونی منتظمین نے ان کی خوب پذیرائی اور ان کی دل کھول کر تعریف کی اور ان کی بہت سی فلموں کی اس فیسٹول میں نمائش کی گئي۔لیکن جونہی محسن مخملباف کے دورۂ اسرائیل اور صیہونی حکومت کے فلم فیسٹول میں ان کی شرکت کی خبر میڈیا میں آئی تو ان کے خلاف عالمی سطح پر اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوا اور پوری دنیا میں بہت سے فلم سازوں، مصنفین اور ناقدین نے صیہونی حکومت کا ہنری بائیکاٹ توڑنے کی بنا پر محسن مخملباف کی مذمت کی۔ لیکن انہوں نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ اقدام قیام امن کی خاطر انجام دیا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ جو حکومت مظلوم فلسطینی عوام کا قتل عام کرنے اور انہیں بےگھر کرنے کے لیے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرتی، وہ امن کی طرف بالکل رجحان نہیں رکھتی۔ایران کے اندر بھی محسن مخملباف کے اس اقدام کی ہر طبقے نے مخالفت کی اور ان کی شخصیت لوگوں کے نزدیک پہلے سے بھی خراب ہو گئي۔ بہت سے لوگ مخملباف کو ایک ایسا آدمی سمجھتے ہیں کہ جس نے برسوں ایران میں فلمیں بنائيں اور انہی فلموں کی وجہ سے دنیا میں شہرت پائی۔ لیکن آہستہ آہستہ انہوں نے اپنا رویہ تبدیل کر لیا اور اپنے مذہب ملک اور سوچ کے خلاف غلط اور انتہاپسند موقف اپنا لیا اور ایران سے اپنے نکلنے کا راستہ ہموار کیا۔ مخملباف کئی برسوں سے اپنے اسی موقف کی وجہ سے اسلامی جمہوریہ ایران اور ملت ایران کے سخت دشمنوں کے ساتھ مل گئے اور ان کی مالی مدد سے اب ایران سے باہر زندگي گزار رہے ہیں۔ اس عرصے کے دوران مخملباف نے جو فلمیں بنائیں وہ معیار سے گری ہوئيں اور بے وقعت تھین جن سے ان کے آقا تو راضی ہو گئے لیکن وہ ہنری میدان میں کوئي کامیابی حاصل نہ کر سکے۔جو فلم بیت المقدس فلم فیسٹول میں نمائش کے لیے پیش کی گئي وہ ایران میں گمراہ فرقے اور اس کے پیروؤں کے بارے میں ہے کہ جو صہیونی ریاست کی حمایت سے اسرائیل میں تیار کی گئي اور اگر اس کی حمایت ہو تو کوئي تعجب کی بات نہیں ہے۔ محسن مخملباف کی بیت المقدس فلم فیسٹول میں شرکت اور ملت ایران اور فلسطین کے دشمنوں کے ساتھ مل جانا اتنا انسانی اقدار سے گرا ہوا نفرت انگیز اقدام تھا کہ ایران سے باہر رہنے والے ایرانیوں نے بھی اس کو سخت ناپسند کیا اور اس کی سخت مذمت کی۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کی حامی تنظیموں اور صہیونی ریاست کے بائیکاٹ کی مہم میں شریک افراد نے بھی اس پر ردعمل ظاہر کیا اور اس فلم ساز کے اقدام کو انسانی اصولوں کے خلاف اور نسل پرست صیہونی حکومت کی حمایت میں قرار دیا۔

.......

/169