ابنا: دو ہفتے قبل بوليويا کے صدر ايوو موراليس کے طيارے کو،اسپين، فرانس اور اٹلي کي فضائي حدود سے گزرنے کي اجازت نہ ديئے جانے پر بطور احتجاج ونيزوئلا، بوليويا، کيوبا اور اکواڈور نے مذکورہ يورپي ملکوں سے اپنے سفيروں کو واپس بلاليا ہے -ونيزوئلا کے وزيرخارجہ الياس خائيوا نے بتايا ہے کہ يہ اقدام بارہ جولائي کو مرکوسور تنظيم کے سربراہي اجلاس کے فيصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے کيا گيا ہے - انہوں نے اسي کے ساتھ بتايا کہ کاراکاس ميں اسپين ، فرانس اور اٹلي کے سفيروں کو وزارت خارجہ ميں طلب کرکے ، انہيں وہ احتجاجي نوٹ بھي ديا گيا جس پر مرکوسور تنظيم کے رکن ملکوں کے سربراہوں کے دستخط موجود ہيں -قابل ذکر ہے کہ بوليويا کے صدر ايوو موراليس دو ہفتے قبل، گيس برآمد کرنے والے ملکوں کے سربراہي اجلاس ميں شرکت کے بعد ماسکو سے اپنے ملک واپس جارہے تھے کہ اٹلي، فرانس، اسپين اور پرتگال نے ان کے طيارے کو اپني فضائي حدود سے گزرنے کي اجازت نہيں دي جس کي وجہ سے ان کے طيارے کو ويانا ميں ايمرجنسي لينڈنگ کرني پڑي تھي –ان ملکوں کا کہنا ہے کہ کہ موراليس کے طيارے ميں امريکي جاسوسي اسکينڈل منظر عام پر لانے والے سابق امريکي ايجنٹ ايڈورڈ اسنوڈن ہوسکتے تھے اس لئے انہوں نے طيارے کو اپني فضائي حدود ميں داخل ہونے کي اجازت نہيں دي تھي- يورپي ملکوں کے اس اقدام کے بعد ايوو موراليس کا طيارہ ويانا ايئر پورٹ پر رکا رہا اور سرانجام چودہ گھنٹے بعد مذکورہ ملکوں نے اس طيارے کو اپني فضائي حدود سے گزرنے کي اجازت دي- يورپي ملکوں کے اس اقدام پر لاطيني امريکا کے انقلابي ملکوں نے سخت ردعمل کا اظہار کيا اور سرانجام بوليويا کے ساتھ ہي ونيزوئلا، اکواڈور اور کيوبا نے بھي مذکورہ يورپي ملکوں سے اپنے سفيروں کو واپس بلاليا -اس واقعےکے بعد بوليويا کي وزارت خارجہ نے مذکورہ چارو يورپي ملکوں کے سفيروں کو طلب کرکے اس سلسلے ميں ان سے وضاحت طلب کي تھي –بوليويا کے وزير اطلاعات و نشريات نے بتايا ہے يورپي ملکوں کے سفيروں پر واضح کيا گياہے کہ ہم اس واقعے کو رياستي دہشتگردي سمجھتے ہيں-بوليويا کي حکومت نے ايک بيان جاري کرکے بتايا ہے کہ اٹلي، فرانس ، پرتگال اور اسپين کي حکومتوں نے اس واقعے پر بوليويا سے باضابطہ معافي مانگي ہے ليکن ہم اس کو کافي نہيں سمجھتے-
.......
/169