ابنا: اقوام متحدہ کےماہرین کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں گذشتہ سال جولائی کےآخری دنوں میں ایران کی جانب سے شھاب بیلیسٹیک میزائل کےفائر کو سلامتی کونسل کی قرارداد انیس سوانتیس کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ میں اسٹریلیا کےنمائندے گری کوئینلن نے کہا کہ سلامتی کونسل نے اس رپورٹ کی تائید نہيں کی کیونکہ بعض اراکین نے ماہرین کی اس رپورٹ کی حمایت نہيں کی ۔ امریکی حکومت نے سلامتی کونسل کی پابندی عائد کرنے والی کمیٹی سے مطالبہ کیا تھاکہ اس رپورٹ کی پرزور حمایت کرکے پابندی عائد کرنے کےلئے اقدام کرے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کےڈپٹی امبیسڈر رزماری دیکارلو نے ایران کی جانب سے شام ، لبنان ، غزہ ، یمن ، اورعراق میں سرگرم گروہوں کوہتھیار فراہم کرنے اور انھیں صلاح ومشورہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے سلامتی کونسل سے اس مسئلے کاجائزہ لینے کابھی مطالبہ کیا۔ ڈیکارلو نے سلامتی کونسل کےاجلاس میں دعوی کیا کہ ایران ایک عرصے سے شام کی بشاراسد حکومت کو ہتھیار بھیج رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں برطانیہ کے نمائندے مارک لیال گرینٹ نے بھی دعوی کیا ہے کہ ایران ، اقوام متحدہ کی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے حزب اللہ اور شام کی فوجی مدد کررہا ہے۔ لیکن ان بےبنیاد رپورٹوں کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور روس وچین کےنمائندوں نے اسےمسترد کردیا ۔ اقوام متحدہ میں روس کےنمائندے پیٹرایلیچیف نے کہا کہ اس کمیٹی کےفیصلے معتبر اورمصدقہ اطلاعات کی بنیاد پرہونے چاہئے ۔ اقوام متحدہ میں چین کےڈپٹی امبیسڈر ونگ مین نے بھی اس سلسلے میں روس جیسا موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ چین ، ایران پرنئی پابندیوں کےذریعے دباؤ بڑھانے کےخلاف ہے۔ ایران کےخلاف پابندیاں بڑھانے کی ایسے عالم میں مخالفت ہورہی ہے کہ آج گروپ پانچ جمع ایک کےنمائندے بریسلز میں ایران سے آئندہ مذاکرات کےبارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔ امریکہ تیس سال سے زيادہ عرصے سے مختلف بہانوں سےایران پرپابندی عائد کئے ہوئے ہے ، گذشتہ برسوں میں ایران کی سائنسی ترقی بالخصوص پر امن ایٹمی ٹیکنالوجی میں پیشرفت کی بنا پر امریکی پابندیوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ پابندیاں جاری رکھنے یا اس میں شدت لانے کی کوئی منطقی وجہ نہيں ہے ۔امریکی حکام کاخیال ہے کہ یہ پابندیاں، ملت ایران کو اپنے ایٹمی حقوق کےحصول سے مایوس کردیں گي لیکن قرآئن اور شواہد سےپتہ چلتا ہے کہ روز بروز پابندیوں کی بڑھتی ہوئي مخالفت سے واشنگٹن اوربعض یورپی ممالک کی پالیسیوں کاغیرمنطقی ہونا واضح ہوتا جارہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ ان اقدامات سے امریکہ کا من پسند نتیجہ برآمد نہيں ہوگا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کل کےاجلاس میں ایران کے خلاف امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بےبنیاد رپورٹوں اور مطالبات کی مخالفت اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا تاکید کی ہے کہ وہ مذاکرات کومثبت نگاہ سےدیکھتا ہے اور ایٹمی مذاکرات میں تعاون کاراستہ اختیارکرنے کےلئے تیار ہے۔ بنا بر ایں مذاکراتی فریق کو ایران کےساتھ تعاون کےلئے صحیح راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ....... /169
15 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 441400
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس ادارے کےماہرین کی کمیٹی کی یہ رپورٹ تسلیم نہيں کی جس میں کہاگیا تھا کہ ایران نے کچہ بیلیسٹیک میزائل فائر کر کےاقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔