6 جولائی 2013 - 19:30
قطر کی علاقائي خارجہ پالیسی میں تبدیلی

قطر کے نئے امیر شیخ تمیم بن حمد آل خلیفہ نے اپنے ملک میں اقتدار کے ایوانوں میں تبدیلیوں کے بعد خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانے کا بھی آغاز کردیا ہے۔

ابنا: عرب ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ  قطرکے نئے امیر شیخ تمیم بن حمد آل خلیفہ نے تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے  سربراہ خالد مشعل کو اڑتالیس گھنٹوں کے اندر دوحہ سے چلے جانے ، دوحہ میں اخوان المسلمین کے دفاتر بند کۓ جانے اور یوسف قرضاوی کو دوحہ سے قاہرہ منتقل کۓ جانے کا حکم دیا ہے۔ قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن جاسم آل ثانی کے زمانے میں تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل سمیت حماس کے بعض رہنماؤں کو اس ملک میں رہنے کی اجازت دی گئي تھی تاکہ اس تحریک کو قطر کی علاقائي پالیسیوں سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔ اگرچہ تحریک حماس نے شام کے مسئلے میں بہت حد تک قطر کی شام مخالف پالیسیوں میں اس ملک کا ساتھ دیا لیکن عرب امن تجویز تحریک حماس اور قطر کے حکام کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کا سبب بنی۔ عرب امن تجویز کے مطابق فلسطین اور صیہونی حکومت کے درمیان ایسا معاہدہ طے پائے جانے کی بات کی گئي ہے جس کی بنیاد انیس سو سڑسٹھ کی پوزیشن کے ساتھ دو ملکوں کے قیام پر استوار ہو اور فریقین کے اتفاق رائے کے ساتھ زمینوں کے تبادلے کا امکان بھی پیش نظر رہے۔قطر عرب امن تجویز سے متعلق کمیٹی کا سربراہ ہے۔ اس نے حماس سے کہا کہ وہ اس تجویز کی مخالفت نہ کرے۔ لیکن حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے اس تجویز کی کھل کر مخالفت کی۔قطر نے، کہ جو امریکہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ایک طرح کے تکبر کا شکار ہے، خالد مشعل سے کہا ہے کہ وہ معافی مانگنے کے علاوہ اپنا موقف بھی بدلیں وگرنہ ان کو دوحہ سے باہر نکال دیا جائے گا۔ خالد مشعل نے نہ صرف دوحہ سے معافی نہیں مانگی بلکہ عرب امن تجویز سے متعلق اپنا موقف بھی نہیں بدلا۔  قطر کے جوان اور کم تجربہ کار امیر شیخ تمیم بن حمد آل خلیفہ نے ایک حکم جاری کر کے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل سے کہا ہے کہ وہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران دوحہ سے چلے جائيں۔ شیخ تمیم نے مصر میں صورتحال بدلنےکے بعد قطر میں اخوان المسلمین کے تمام دفاتر بند کۓ جانے کا بھی حکم دے دیا ہے۔ اس سے قبل امیر قطر نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے یوسف قرضاوی کو دوحہ سے قاہرہ منتقل کۓ جانے کا حکم بھی دیا تھا۔ واضح رہےکہ شیخ یوسف قرضاوی کو قطر سے نکالے جانے کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا گيا ہے۔قطر میں اقتدار شیخ تمیم کے  ہاتھ میں آنے کے ابتدائي دنوں میں ہی مبصرین نے اس بات کی پیشین گوئی کی تھی کہ قطر کی خارجہ پالیسی میں جو تبدیلیاں آئيں گي ان میں اخوان المسلمین سے متعلق پالیسی میں تبدیلی بھی شامل ہوگي۔ مصر میں صورتحال بدلنے ، اس کے ملک کے صدر محمد مرسی کی برطرفی اور اخوان المسلمین کے بعض رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد دوحہ میں اخوان المسلمین کے دفاتر بند کۓ جانے اور یوسف قرضاوی کو احترام کے ساتھ اس ملک سے نکالے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ قطر کی خارجہ پالیسی ایک نئي سمت میں چل پڑی ہے۔شیخ تمیم بن حمد نے اپنے اس فیصلے کے سلسلے میں ایک قانونی نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومتوں کے ساتھ تعاون کو قطر کی خارجہ پالیسی میں ترجیح  حاصل ہے نہ کہ گروہوں اور جماعتوں کے ساتھ تعاون کو۔ یہ بات قانونی ، منطقی اور قابل قبول ہے۔ لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ شیخ تمیم نے وائٹ ہاؤس کے ساتھ مشاورت کر کے بعض فیصلے کۓ ہیں اور اسی مشن کے ساتھ اقتدار ان کے والد سے لے کر  ان کو دیا گيا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲