عام انتخابات میں کامیابی کی خبر پاتے ہی میاں صاحب نے اس آرزو کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے بھارتی ہم منصب کو حلف برداری کی تقریب میںمدعو کریں گے، من موہن جی کو کوئی بے قراری نہیں لگی ہوئی تھی، انہوںنے نہ آنا تھا، نہ آئے، پھر بھی میاں صاحب نے کہا کہ وہ خود بھارت کے دورے پر جائیں گے، کسی نے نہ بھی بلایا تو تب بھی نئی دہلی کے لئے رخت سفر باندھیں گے۔ ہنوزدلی دور است!!وہ غیر ملکی دورے پر جائیں گے تو سہی مگر چین کا رخ کریں گے۔ چین جانے والی پرواز دلی کے اوپر سے بھی نہیں گزرتی۔وا حسرتا!میاں صاحب نے سیفما کے اسٹیج سے بھارت کے لئے نیک تمناﺅںکے اظہار میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہ سیفما بھی کیا چیز ہے، ظاہر تو یہ کیا جاتا ہے کہ یہ سارک ممالک کے صحافیوں کی تنظیم ہے، جبکہ یہ محض ایک خانہ ساز تنظیم ہے، اس کا سارا زور شور پاکستان میں ہے، کم کم بھارت میں بھی ہے، باقی سارک کے رکن ممالک کو شاید اس کی پیدائش کی ابھی اطلاع نہیں۔سیفما کے ذکر سے یادا ٓیا کہ سار ک چیمبر آف کامرس کا صدر دفتر کراچی میں قائم کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔اس کی عمارت کی تعمیر کے لئے سابق دور حکومت میں لگ بھگ چالیس کروڑ کی گرانٹ جاری کی گئی۔اس کی منظوری حاصل کرنے کے لئے جے یو آئی ایف کے ایک سینیٹر صدر زرداری کے پاس گئے، ان کے ہمراہ افتخار ملک بھی تھے جو ہر صنعتی اور کاروباری فورم پر پیش پیش نظر آتے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کہ ایوان صدر میں حاضری تو محض رسمی کاروائی تھی کیونکہ گرانٹ جاری کر نے کی درخواست خود مولانا فضل الرحمن پہلے ہی فون پر کر چکے تھے۔ ایوان صدر کی میٹنگ میں وزارت خزانہ کے سربراہ کو طلب کیا گیا، انہوں نے کہا کہ یکبارگی چالیس کروڑ روپے جاری کرنے کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی کا اجلاس بلانا پڑے گا جس میں انکار بھی ہو سکتا ہے، بہتر یہ ہے کہ بیس بیس کروڑ کے دو چیک جاری کر دیئے جائیں جو ان کی صوابدید میں آتے ہیں۔ یہ سن کرمیں حیران ہوا کہ جس سارک میں ٹاٹا، برلا، داﺅد،ہاشوانی ، منشا اور افتخار ملک جیسے نجانے کیسے کیسے سیٹھ بستے ہیں، وہاں پاکستان کے ٹیکس دہندگان پر کیوں بوجھ ڈالا جا رہا ہے، میں موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر یہ رقم جاری ہو چکی ہے تو اسے سیٹھوں کی جیب سے واپس لیا جائے۔اور اگر سار ک چیمبر کراچی میں بننا ہے تو خطے کے سیٹھ اپنی جیبیں ٹٹولیں۔سیفما کے لئے بھی میاںنواز شریف اور ان کے بعد کی حکومتیں اگر کوئی گرانٹ دے چکی ہیں تو انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ اتنا پیسہ ان کشمیری خواتین کی بحالی پر لگاتے جنہیں بھارتی فوج نے جبری اور اجتماعی آبرو ریزی کا نشانہ بنایا۔اگر خطے میں میڈیا کی کوئی تنظیم ضروری ہے تو اس کے لئے ہمیں برادر اسلامی ممالک کے میڈیا کو ایک فورم پر اکٹھے کرنا چاہئے۔ایران سے لے کر مراکش تک، ریاض سے لے کر مصر تک، عکرہ سے لے کر مالے تک کے میڈیا سے ہم بے خبر ہیں، کیا مجھے کوئی خبر دے سکتا ہے کہ الاہرام کا ان دنوں ایڈیٹرکون ہے۔ کیامحمد حسین ہیکل سے بڑا صحافی کبھی بھارت نے پیداکیا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کی بھارت دوستی کے عزائم کے سامنے کیسے بند باندھا جائے، انہوںنے چار روز پہلے بھی کہا ہے کہ پاک بھارت قریبی تعلقات کی پالیسی جاری رہے گی۔یہ حکومت بھارت سے ترجیحی تجارت کرنا چاہتی ہے، اسے موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دینا چاہتی ہے،واہگہ کی لکیرکو غیر ضروری سمجھتی ہے، اور بھارت سے وہ بجلی خریدنا چاہتی ہے جسے کشمیریوں کے خون سے پیدا کیا گیا۔کون با حمیت پاکستانی ہے جواس بجلی کے ایک واٹ کو بھی استعمال کرنے کا خواہاںہو گا۔صاحب! جب قائد اعظم کی قیادت میں لاکھوں قربانیوں سے پاکستان قائم ہو گیا تو پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کا کیا مطلب۔اگر کسی کو ماضی یاد آتا ہے تو اس کے سامنے چوائس موجود ہے ، وہ ایک بار پھر ہجرت کرے اور جائے، اپنے وطن مالوف کو چار چاند لگائے۔بھارت کو اسے اپنی شہریت دینے میںخوشی ہو گی۔ پاکستان میں رہنا ہے تو پاکستانی بن کر رہو، پاکستان کو بھارت کیوں بناتے ہو،سبز ہلالی پرچم کی جگہ ترنگا لہرانے کی خواہش کیوں ہے۔قائد ریذیڈنسی سے پاک پرچم اتار کر کوئی اجنبی پرچم لہرانا ایسی ہی کسی نا ہنجار خواہش کی تکمیل لگتا ہے۔اور اب بجٹ کا بیاں ہو جائے جو اپنی تمام تر غضب ناکی کے ساتھ نافذ ہو چکا ہے۔ہمارے وزیر خزانہ سے لے کر وزیر اعظم تک کشکول توڑنے کی بات کرتے نہیں تھکتے، مگر اب آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اے طائر لاہوتی، اس رزق سے موت اچھی کے خوش نما اور جذباتی نعرے لگا کر ہیوی مینڈیٹ لے لیا اور اب آئی ایم ایف سے موت کا سودا کیا جا رہا ہے، ایک قرض اتارنے کے لئے نیا قرض لیا جارہا ہے، یہ کونسی مالیاتی یا معاشی مہارت ہوئی۔کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی شرطیں نہیں مانیں گے ، بجٹ کے حالیہ عذاب کے باوجود یہ دعوی کیا حقیقت رکھتا ہے، اگر شرطیںمان لی جائیں تو کیا اس سے زیادہ غضب ڈھایا جا سکتا ہے۔ اسحاق ڈار کبھی پانچ مرلہ گھر میں نہیں رہے، انہوں نے کبھی ایک سو روپے کا اسکریچ کارڈاپنے موبائل کے لئے نہیں خرید اہو گا، ان کے بچے اور بچوں کے بچے جوان ہوں گے، انہیں دودھ کی ضرورت نہیں رہی ہو گی، ان کو کچن کی اشیا ملکی مارکیٹ سے نہیں خریدنا پڑتی ہوں گی۔اس لئے وہ اسی قسم کا بجٹ بنا سکتے تھے اور ہیوی مینڈیٹ کی طاقت سے عوام پر ٹھونس سکتے تھے۔جس وزیر خزانہ نے پاکستانیوں کے غیر ملکی بنک اکاﺅنٹس پر جھپٹا مارا ہو، اس سے نرمی کی توقع ہی عبث ہے۔ وہ سب سڈی واپس لینے کی بات کرتے ہیں، یہ بھی آئی ایم ایف کی شرائط میں سے ایک ہے۔ میں ایک بار کٹھمنڈو گیا، وہاں ایک نیپالی ماہر مالیات سے ملاقات ہوئی جو آئی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر میں کام کر چکا تھا، اس نے حیرت سے کہا کہ اگر اس ادارے کے صدر دفتر کے اسٹور پر ہر شے سستے داموں دستیاب ہے تو وہ کس منہ سے دنیا کو سب سڈی دینے سے منع کرتا ہے۔کاش! اسحا ق ڈار بھی کسی وقت آئی ایم ایف کی ٹیم سے یہ سوال پوچھ سکیں۔برصغیر میں ہماری غلامی کی تاریخ، ہماری حکمرانی کی تاریخ سے مختصر ہے مگر خوئے غلامی سرشت کا حصہ بن کر رہ گئی ہے، کوئی نئی دہلی کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہے کوئی آئی ایم ایف کے طوق غلامی کو گلے کا ہار بنانے میں فخر محسوس کرتا ہے....../169
6 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 437882
من کی مراد پانے کی تاریخ نکل آئی ہے۔ ستمبر میں یو این او کے سالانہ اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ہمارے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ملاقات کی خواہش پوری ہو جائے گی، یہ ایک باقاعدہ ملاقات تو نہیں کہلا سکتی مگر روبرو بیٹھنے کا اپنا ہی مزا ہے اور اس مزے میں بھی شاید شامل ہے۔