4 جولائی 2013 - 19:30
مصر میں حقیقی اسلامی انقلاب کی ضرورت

ضرورت اس بات کی ہے کہ صدر مرسی اور اخوان المسلمین دونوں امام خمینیؒ کی روش اور طریقۂ کار کا جائزہ لیں اور اس کی جانب رجوع کریں۔ اسلام پسندوں کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ سیاسی اسلامی بیداری کا سرچشمہ امام خمینیؒ کی الٰہی فکر ہے جس نے دنیا میں تزلزل اور تحرک برپا کر رکھا ہے۔

ابنا: مصری صدر محمد مرسی بالآخر فوجی بغاوت کی نذر ہوگئے۔ مرسی کی صدارت کا خاتمہ درحقیقت اخوان المسلمین کی مغرب کے ساتھ مصالحت کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ مصر کے عوام مصر میں اسلامی حکومت کے قیام کے خواہش مند ہیں اور یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ صدر مرسی مصر کے پہلے آزاد و شفاف انتخاب میں عوام کی عظیم اکثریت کی حمایت سے کامیاب ہوئے تھے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ مصر میں موجود مغرب کا حمایت یافتہ طبقۂ اشرافیہ حقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے آمادہ نہیں تھا۔ یہ لوگ آزاد اور شفاف انتخابات کے نتائج کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ لہٰذا انھوں نے اپنے مغربی آقاؤں کی مدد سے مصر کی معیشت کا پہیہ جام کردیا اور پھر اس معاشی تعطل و جمود کا الزام صدرمرسی کے سر منڈھ دیا۔ مصر کی پرجوش نوجوان آبادی جن کا سیاسی شعور بہت بالیدہ نہیں ہے سیلاب کی مانند سڑکوں پر نکل آئی اور یوں مرسی کے خلاف فوج کو بغاوت کرنے کا جواز ہاتھ آگیا۔ گویا مصر کی نوزائیدہ جمہوریت ابھی اپنے پالنے میں ہی تھی کہ اس کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ یہ ناخوشگوار واقعہ بہرحال چند اہم نکات کی طرف اہلِ نظر کو متوجہ کرتا ہے:ایک یہ کہ اخوان المسلمین کو مغرب کے مدار یا دائرۂ اثر میں رہتے ہوئے مصری معاشرے کو اسلامی اقدار سے مزین کرنے کے اپنے خواب کے قابلِ عمل ہونے پر بہت ہی سنجیدگی سے غور اور نظرِ ثانی کرنا چاہیے۔ مرسی اور اخوان المسلمین نے مغرب اور علاقے میں اس کی کٹھ پتلی حکومتوں کے ساتھ اتحاد و یگانگت قائم کرکے بہت ہی بھیانک غلطی کی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں اخوان المسلمین صہیونیوں کے زیرِ نگیں مغرب کا آلۂ کار بن گئی اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ مغرب عالمِ اسلام میں شیعہ و سنی کے مابین اختلاف اور تفریق کو ہوا دے کر فرقہ وارانہ خانہ جنگی ایجاد کرنے کے درپے ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ پر اپنے تسلط کو مضبوط سے مضبوط تر کرسکے۔ بہرحال اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ اخوان المسلمین مغرب کے اس دامِ تزویر میں بری طرح گرفتار ہوگئی۔ اس کا بین ثبوت شیخ یوسف القرضاوی، جو کسی زمانے میں اخوان کے بہت ہی محترم دانشور شمار کئے جاتے تھے، کا صہیونیوں اور سعویوں کے قابلِ نفریں ایجنڈوں سے ہم آہنگی اور موافقت کرتے ہوئے شیعوں کے خلاف آتش افروز فتوے جاری کرنا ہے۔دوسرے یہ کہ شاید محمد مرسی نے یہ خیال کیا تھا کہ اگر وہ شام کی جنگ میں شامل ہونے، غزہ بارڈر کو بند کرنے، سرنگونی پر مبنی کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو برقرار رکھنے، مصریوں کی آئندہ نسلوں کو بطور رہن آئی ایم ایف کی تحویل میں دینے اور مصری فوج کو اُسی روش پر باقی رہنے دینے، کہ جس روش پر وہ حسنی مبارک کے دورِ اقتدار میں گامزن تھی جیسے معاملات میں مغرب کے املا کو قبول کرلیتے ہیں تو انھیں مصر کے سول کوڈ میں مزید شرعی قوانین کو شامل کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ یہ ایک شیطانی سودے بازی تھی جو ابتداء ہی سے سودے بازی دِکھ رہی تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ شیطان اپنی سودے بازی پر کبھی قائم نہیں رہتا ہے۔ لہٰذا مرسی اور اخوان المسلمین شیطانی قوتوں کی چالوں کا کما حقہ ادراک کرنے میں یہاں بری طرح دھوکہ کھاگئے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ صدر مرسی اور اخوان المسلمین دونوں امام خمینیؒ کی روش اور طریقۂ کار کا جائزہ لیں اور اس کی جانب رجوع کریں۔ اسلام پسندوں کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ سیاسی اسلامی بیداری کا سرچشمہ امام خمینیؒ کی الٰہی فکر ہے جس نے دنیا میں تزلزل اور تحرک برپا کر رکھا ہے۔ امام خمینیؒ نے ہمیشہ اس بات پر تاکید کی ہے کہ اسلامی بیداری کی تحریک میں فرقہ واریت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ مسلمان پہلے اور سب سے پہلے مسلمان ہیں خواہ ان کا تعلق حنفی، مالکی، حنبلی، شافعی یا جعفری مکتبِ فکر سے کیوں نہ ہو۔ لہٰذا اخوان المسلمین کو چاہیے کہ وہ ہر ایسی روش سے گریز کرے جس سے فرقہ واریت کو جلا ملتی ہو اور اس کے ساتھ ہی اُسے اسلامی وحدت کی تشکیل کے لئے ہراول دستے کے طور پر پورے شد و مد کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔ اخوان المسلمین کو ظالم حکمرانوں کی روش کو کلیتاً مسترد کردینا چاہیے خواہ یہ حکمراں مغربی ہوں، سعودی ہوں یا قطری ہوں نیز انھیں عالمی سطح پر استحصال اور ناانصافی کے خلاف قیام کرنا چاہیے۔تیسرے یہ کہ آیت اللہ خمینیؒ کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ حقیقی اسلامی انقلاب پرانے نظام کو کلی طور سے مسترد کئے جانے نیز مغرب کے ساتھ تعلقات کو کاملاً منقطع کئے جانے پر مصر ہوتا ہے۔ اس فکر کی رو سے تمام طاقتور شخصیات جو مغرب کی پروردہ ہیں اور جنھیں مغرب نے ڈکٹیٹر کی حیثیت سے عوام پر مسلط کر رکھا ہے اور جن میں زیادہ تر بادشاہوں اور بالخصوص فوجی جنرلوں کا ٹولہ شامل ہے کو یا تو اقتدار سے برطرف کردیا جائے یا کامیابی کے ساتھ ان کی ازسرِ نو تہذیب کی جائے۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف جیسے تمام استعماری اداروں کو اسلامی ممالک سے بے دخل کردیا جائے کہ جس طرح ایران میں بے دخل کیا گیا۔ اخوان المسلمین کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ وہ اس کے لئے مکلف ہے کہ وہ ایک مکمل اسلامی انقلاب کے لئے سرگرمِ عمل ہو اور اپنے اس دینی فریضے سے اسے ایک لمحے کے لئے بھی بے اعتنائی نہیں برتنی چاہیے۔ اس کے دینی فرائض میں یہ شامل ہے کہ مغرب کے تمام کٹھ پتلی حکمرانوں کو اقتدار سے برطرف کرنے کی جدوجہد کرے اور مغربی بینکوں اور حکومتوں کی مسلط کردہ پابندیوں کے شکنجوں کو توڑ ڈالے۔ اگر اسلامی معاشرے کی تشکیل مقصود ہے جو کہ مصری عوام کی اکثریت کی خواہش ہے تو صرف انتخابات جیتنا کافی نہیں جب کہ حقیقی ریاستی باگ ڈور مغرب کی حاشیہ بردار اور باج گزار فوج کے ہاتھوں میں ہو۔ ایسی صورت میں اخوان کا اپنے اسلامی اہداف کی جانب پیش رفت کرنا ایک امرِ محال اور ناممکن قرار پائے گا۔اخوان المسلمین کو مصر میں اپنی ناکامی پر خوب غور و فکر کرنا چاہیے اور اسے اپنی غلطیوں پر نظرِ ثانی کا ایک موقع سمجھنا چاہیے۔ اخوان کی عظیم ترین غلطی مزاحمت کے محور، جو حماس، حزب اللہ، شام اور ایران کے اشتراک و اتحاد پر مشتمل ہے، میں شمولیت سے انکار سے عبارت تھی۔ اخوان کی شام میں جو المناک تاریخ رہی ہے اس کی تلافی وہ مزاحمت کے ابھرتے ہوئے محور میں شمولیت کے ذریعے کرے اور مقاومت کے محور کی جانب سے اسے شمولیت کی جو پیشکش کی گئی ہے اسے اپنی تاریخی موقع خیال کرے۔ اس وقت بہترین موقع ہے کہ اسلام کے ازلی دشمنوں کو آڑے ہاتھوں لیا جائے۔ ایک سال پہلے کسی کے گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ اخوان المسلمین سے مربوط دو سربراہانِ ریاست یعنی مصر کے صدر مرسی اور قطر کے امیر حمد بن خلفیہ الثانی اقتدار سے تقریباً ایک ہی وقت میں برطرف کردئیے جائیں گے جب کہ اسد حکومت شام میں نہ صرف اقتدار میں باقی ہے بلکہ یہ روز افزوں طاقتور اور توانا ہورہی ہے۔مغربی میڈیا مسلسل ہمیں یہ باور کراتا رہا کہ صدر اسد کی حکومت اب گری اور تب گری۔ لیکن دو سال سے زائد عرصے پر محیط مغربی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کے باوجود صدر بشارالاسد آج بھی اقتدار میں باقی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ مشرقِ وسطیٰ میں جنم لینے والی تبدیلیوں کا صحیح ادراک کرنے کے خواہش مند ہیں تو آپ کو متبادل میڈیا کی طرف رجوع کرنا ہوگا جن میں پریس ٹی وی سرِفہرست ہے جو تواتر کے ساتھ مغرب کے اس دعوے کو مشکوک قرار دیتا رہا کہ ’’ شام میں حکومت کی تبدیلی بالکل قریب ہے ‘‘۔ مقاومت کا محور شام میں کامیاب ہورہا ہے۔ اس کی کامیابی اگرچہ دھیمی ہے لیکن یقینی ہے۔ دنیا کے سامنے یہ حقیقت بالآخر اسی طرح واضح ہوجائے گی جس طریقے سے فلسطینیوں کے حوالے سے اسرائیلی اپارتھیڈ کی حقیقت برملا ہوگئی۔ صہیونیوں اور استعمار کے آگے سرنگونی کا محور اب شکست سے دوچار ہے۔ مستقبل دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں سے مربوط ہے نہ کہ زوال آمادہ اور انحطاط پزیر مغرب سے۔ بہرحال موجودہ صورتحال میں ابھرتے ہوئے چند سوالات پر اسلام پسندوں کو اپنی توجہات مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے:کیا صدر مرسی کے خلاف حالیہ فوجی بغاوت اخوان المسلمین کی بیداری کا سبب بنے گی؟کیا اخوان المسلمین نئی راہ پر چلنے کا فیصلہ کرے گی جو اسلامی اتحاد اور حقیقی اسلامی انقلاب سے عبارت ہے اور جسے آج سے 34 سال پیشتر مسلمانوں کے سامنے امام خمینیؒ نے واشگاف کیا تھا؟......./169