4 جولائی 2013 - 19:30
مصر میں اجتماعی دعا اور احتجاج

مصرمیں اخوان المسلمون نے عبوری صدر کی جانب سے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے آج ملک بھر میں اجتماعی دعا اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: مصرمیں اخوان المسلمون نے عبوری صدر کی جانب سے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے آج ملک بھر میں اجتماعی دعا اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔مصری صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ان کے مخالفین کا جشن اور حامیوں کا احتجاج جاری ہے۔محمد مرسی کو ہٹائے جانے کے بعد سے ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 18 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ اخوان المسلمین کے 300 سے زائد ارکان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں۔ سیکیورٹی اہل کاروں نے اخوان المسلمین کے سپریم لیڈر محمد بدیع اور سابق رہنما محمد عاکف سمیت درجنوں رہنماوٴں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد ال حداد نے قاہرہ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ محمد مرسی اب بھی مصر کے قانونی صدر ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ صدر مرسی اور ملک کے آئین سے بغاوت کرنے اور ان کی مدد کرنے والوں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا جائے گا۔ گزشتہ روز مصر کے عبوری صدرعدلی منصور نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پہلی تقریر میں اخوان المسلمین سمیت تمام گروپوں سے اپیل کی تھی کہ وہ نئی حکومت میں شریک ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲