ابنا: کل کے دلخراش واقعہ کے خلاف آج کوئٹہ میں مکمل ہڑتال ہے اور تمام کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ ہڑتال مجلس وحدت مسلمین کی کال پر کی گئ۔ مجلس وحدت مسلمین نے واقعہ کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کرنے اور تین روزہ عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔مجلس وحدت مسلمین کے صوبہ بلوچستان کے سیکرٹری جنرل علامہ مقصود ڈومکی اور مرکزی رہنما سید ہاشم موسوی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے نمازیوں کے خلاف بزدلانہ اقدام قرار دیا ہے۔دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے لاہور میں ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اگر عدلیہ، انتظامیہ اور حساس ادارے تہیہ کرلیں تو ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت تین صوبوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے دہشت گردوں کی سرکوبی کے بجائے ان سے مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ ہزارہ ٹاوٴن کے محلہ علی آباد کے بلخی چوک پر واقع امام بارگاہ ابو طالب میں نماز مغربین کے اختتام پر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 30 افراد شہید جبکہ 70 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں 8 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔......./169
30 جون 2013 - 19:30
News ID: 435732
پاکستان کے شہر کوئٹہ میں کل نمازیوں پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد جس میں 30 افراد شھید ہوئے تھے فضا سوگوار ہے اور تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔