27 جون 2013 - 19:30
عراق کے وزیر اعظم کا انتباہ

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے عراق کے تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ انتہا پسندی سے بچیں اور ملک کی تعمیر کے لئے بہترین راستے کا انتخاب کریں ۔

ابنا: نوری المالکی نے قبیلہ پرستی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی مشکلات و مسائل کو آئین کے مطابق اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے گفتگو کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ عراق میں فتنہ اور اختلاف پھیلا رہے ہیں وہ دشمنوں کے اہداف کے لئے کام کررہے ہیں ۔ نوری المالکی نے عراق اور شام میں نام نہاد جہاد کے لئے انتہا پسند مفتی یوسف قرضاوی کے فتوے پر سخت تنقید کی ، عراق کے وزیراعظم نے مصر کی الازہر یونیورسٹی کی طرف سے اس فتوے کی جانبداری پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیعہ مسلمانوں کے قتل عام اور شام میں جنگ کی دعوت یا اس ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش سے اسلامی دنیا کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے ؟عراق کے وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ جو اسلحہ شام میں دہشتگردوں کے لئے بھیجا جارہا ہے ، وہ اسمگل ہوکے عراق بھی پہنچ رہا ہے اور سابق صدامی حکومت کی باقیات اور القاعدہ کے عناصر کے ہاتھ لگ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں شام میں دہشتگردوں کی مدد کرکے ویسی ہی حکومت لانا چاہتی ہیں جیسی افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی ۔ نوری المالکی نے کہا کہ شام کے بحران کو ہوا دینے سے پورا علاقہ خطرے میں پڑ جائے گا ۔......./169