9 جون 2013 - 19:30
ترکی میں پولیس اور مظاہرین میں رات بھر جھڑپیں

ترکي سے ملنے والي خبرون کے مطابق دارالحکومت انقرہ ميں ايک بار پھر پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپيں ہوئي ہيں۔

ابنا: پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپيں اس وقت شروع ہوئيں جب پوليس نے اتوار کي رات مظاہرين کو منشتر کرنے کے لئے آنسو گيس کي شيلنگ  کي اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کيا۔پوليس نے مظاہرين کے خلاف پاني کي توپوں کا بھي استعمال کيا جس بعد مظاہرين نے پوليس پر پتھراؤ اور پيٹرول بم پھينکنا شروع کئے۔يہ سلسلہ کافي دير تک جاري رہا۔ترکی میں حکومت کے خلاف جاري  مظاہروں کي تيرہويں روز کے اختتام ميں مظاہرين کي بہت بڑي تعداد دارالحکومت انقرہ اور استبول کے مرکزي علاقوں ميں سڑکوں پر آئي وزيراعظم کے استعفے کا مطالبہ دہرايا۔ مظاہرين کي بڑي تعداد استبنول کے تقسيم اسکوائر پر بدستور دھرنا ديئے بيٹھي ہے اور انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا ختم نہيں کريں گے۔يہ مظاہرے ايسے وقت ميں ہور رہے ہيں جب وزيراعظم اردوغان نے اتوار کي رات انقرہ ميں اپنے حاميوں کے بہت بڑے اجمتاع سے خطاب کرتے ہوئے مظاہرين کو شرپسند اور لٹيرا قرار ديا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ سرکاري اداروں پر حملے اور گاڑيوں کو نذر آتش کرنے والوں کے ساتھ سختي سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے صبر کا پيمانہ لبريز ہوتا جارہا ہے لہذا مظاہرين کو احتجاج ختم کر دينا چاہيے۔واضح رہے کہ حکومت کي جانب سے استبول کے تاريخي پارک کو ختم کرکے شاپنگ مال تعمير کرنے کے فيصلے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے وزيراعظم اردوغان کي داخلہ اور خارجہ پاليسيوں کے خلاف احتجاج ميں تبديل ہوگئے ہيں- مظاہرين وزيراعظم کے استعفے کا بھي مطالبہ کر رہے ہيں۔...../169