4 جون 2013 - 19:30

امريکا نے ايران کے صدارتي انتخابات کي آمد کے موقع پر تہران کے خلاف اپني پابندياں مزيد سخت کردي ہيں -

ابنا:  وائٹ ہاؤس نے اعلان کيا ہے کہ امريکي صدر باراک اوباما کے حکم پر امريکا ايران کے خلاف مزيد پابندياں عائد کررہا ہے –
يہ پابندياں ايران کي کرنسي مارکيٹ اور آٹوموبائيل صنعت پر لگائي جارہي ہيں  - وائٹ ہاؤس کے ترجمان جي کارني نے کہا کہ ان پابنديوں کا مقصد ايران کو ايٹمي ہتھياروں تک رسائي سے روکنا ہے -
ان تازہ پابنديوں کے مطابق امريکا ان غير ملکي مالياتي اداروں پر پابندياں عائد کردےگا جو  جان بوجھ کر ايران کي کرنسي ريال کي خريد و فروخت کريں گے  يا بيرون ملک ايران کے اکاؤنٹ کو جو ريال ميں ہيں باقي رکھيں گے -
يہ پہلي بار ہے جب ايران کي کرنسي کو براہ راست نشانہ بنايا گيا ہے -
ان تازہ پابنديوں کے مطابق جو لوگ ايران کي آٹو موبائل صنعت ميں کام آنےوالے آلات اور پرزے ايران کو فراہم کريں گے امريکا ان پر بھي پابندياں عائد کردے گا -

مبصرين کا کہنا ہے کہ امريکا پابنديوں کا کارڈ استعمال کرکے ايران کے صدارتي انتخابات پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے-

.......

/169