ابنا: سعودی عرب کے شہر جدہ میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بحرین کے نائب وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ ایران اور اس کی اتحادی شام میں مداخلت کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ افراد جاں بحق ہوئے۔ اگر حزب اللہ نے شام کی خانہ جنگی میں مداخلت بند نہ کی تو اس کے خلاف کارروائی پرغور کیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکہ اور عرب لیگ نے حزب اللہ سے شام میں لڑنے والے اپنے جنگجوﺅں کو واپس بلانے کامطالبہ بھی کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے فرانس نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے 4 ہزار جنگجو صدر بشار الاسد کی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں سے لڑ رہے ہیں۔یاد رہے کہ امریکہ کی سی آئی اے نے حالیہ مہینوں کے دوران شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے میں ترکی اور بعض عرب ممالک کی مدد کی ہے۔ اس بات کا انکشاف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ میں فضائی ٹریفک کے ڈیٹا، حکومتی عہدیداروں کے انٹرویوز اور باغی کمانڈروں کے بیانات بھی شامل کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی ساز و سامان اردن، سعودی عرب اور قطر کے مال بردار طیاروں کے ذریعے 160 پروازوں میں بھیجا گیا ہے۔ فوجی طرز کے مال بردار طیارے انقرہ کے نزدیک واقع آئزن بوگا ائیر پورٹ کے علاوہ ترکی کے دیگر ائیر پورٹس پر جاتے رہے۔ اخبار کے مطابق سی آئی اے ایجنٹوں نے عرب ممالک کو اسلحہ کی خریداری میں مدد فراہم کی اور کروشیا سے بھاری مقدار میں اسلحہ خریدا گیا۔ امریکی انٹیلی جنس افسروں نے باغی گروپوں کا تعین کیا تھا کہ اسلحہ دیا جانا چاہیئے جبکہ ترکی نے اس سارے پروگرام کی نگرانی کی۔ دوسری جانب سعودی وزارت داخلہ نے شام میں لڑنے والے اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ انہیں واپس وطن آنے پر گرفتار کر لیا جائے گا۔ میجر جنرل منصور الترکی کا کہنا تھا کہ شامی بحران میں مداخلت سعودی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرئے گی جو شامی لڑائی میں شریک ہونے کیلئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یہ اقدام اپنا دامن صاف دکھانے کی ناکام کوشش ہے کیوں کہ سعودی عرب میں نجی سطح پر کوئی ایسی عسکری فورس موجود نہیں جو کہیں جا کر لڑائی کر سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شام میں جا کر لڑنے والے سعودی شہریوں کو ریاض حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وزیر داخلہ کا یہ بیان دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
2 جون 2013 - 19:30
News ID: 425851
خلیجی ممالک نے کہا ہے کہ اگر حزب اللہ نے شام میں مداخلت جاری رکھی تو اس کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کیا جائے گا۔