27 مئی 2013 - 19:30
عراق ميں بدامني، بيروني سازش

عراق ميں پچھلے کچھ دنوں سے بدامني اور دہشتگردانہ واقعات ميں تيزي آگئي ہے عراق ميں دہشتگردانہ کاروائيوں کا اندازبتاتا ہے کہ يہاں بھي ان کاروائيوں ميں وہي عناصر ملوث ہيں جو شام اورلبنان ميں دہشتگردي کررہے ہيں-

ابنا: عراق ميں فوج اور سيکورٹي اہلکاروں کو نشانہ بنانا اور پھر زائرين پرحملہ يہ اقدامات اس بات کو ظاہرکرتے ہيں کہ عراق کي ارضي سالميت اقتدار اور قومي وفاق کے خلاف  ايک منظم سازش کے تحت حملہ کيا جارہا ہے اور يہ سازش صرف عراق تک ہي محدود نہيں ہے بلکہ شام اور لبنان جيسے ممالک بھي ان سازشوں کي زد پر ہيں –   پچھلے چند مہينوں سے عراق شام اور لبنان ميں جس طرح کے دہشتگردانہ واقعات ہورہے ہيں ان پر نظر ڈالنے سے ايک بات واضح ہوجاتي ہے کہ تينوں ملکوں ميں ايک ہي طرح کي کاروائيوں کا مقصد ان ملکوں کے خلاف مشترکہ سازش کو عملي جامہ پہنانا ہے -اس ميں شک نہيں کہ ان ملکوں ميں قبائلي اور قوميتي بنيادوں پر جنگ کي آگ بھڑکانا يا دوسرے لفظوں ميں عراق لبنان اور شام کو خانہ جنگي کي آگ ميں جھونک دينا سازشي منصوبہ تيار کرنےوالوں کا اصل مقصد ہے - اس درميان عراق ميں جس طرح کا سماجي ڈھانچہ ہے اور جس قسم کا اس ملک ميں سياسي بحران پيدا کيا گيا ہے اس کے پيش نظر معمولي سي بھي کشيدگي بڑي کشيدگي ميں تبديل ہوسکتي ہے  -

  اس وقت عراق ميں تکفيري اور سلفي گروہ جنھيں سعودي عرب،  قطر، ترکي  اور اردن کي پوري حمايت حاصل ہے علاقے کے موجودہ اور مخصوص حالات ميں عراق کي حکومت کو نقصان پہنچانے کي کوشش کررہے ہيں - اس درميان بعثيوں نے بھي حالات سے فائدہ اٹھانے کي کوشش کي ہے اور انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لئے دہشتگردوں سلفيوں اور تکفيري گروہوں کي مدد حاصل کرلي ہے -

  يہاں پر قابل غور بات يہ ہے کہ يہ سارے واقعات امريکا کي ہي ايما پر انجام پارہے ہيں کيونکہ واشنگٹن کو ہميشہ موقع کا انتظار رہتا ہے تاکہ وہ مشرق وسطي جيسے اسٹرٹيجک علاقے ميں خواہ وہ کوئي بھي ملک ہو بدامني پيدا کرکے اپنے علاقائي مفادات حاصل کرے-اس وقت تکفيري گروہوں اور امريکا کے حاميوں کے دہشتگردانہ اور فتنہ انگيزي کے اقدامات  کا نشانہ عراق کے بے گناہ شہري ہي بن رہے ہيں-نہ صرف عراق ميں بلکہ مشرق وسطي کے ديگر ملکوں ميں بھي جہاں جہاں تکفيري گروہوں کو چھوٹ دي گئي ہے وہ عام شہريوں کا خون بہارہے ہيں-  يہ ايسي حالت ميں ہے کہ امريکا ان تمام واقعات کے بعد بھي خود کو انساني حقوق کا سب سے بڑا مدافع کہتا ہے اور اپنے اس دعوے کے سہارے وہ عراق شام اور لبنان جيسے ملکوں کي ارضي سالميت اور اقتدار کو پامال کرنے سے بھي دريغ نہيں کرتا-اسي لئے علاقے کي اقوام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطي ميں بحران اور بدامني کا اصل ذمہ دار امريکا ہے -  ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ان دہشتگرد گروہوں کے گناہوں ميں شريک ہے جو علاقے ميں معصوم اور بے گناہ  لوگوں کے خون سے ہولي کھيل رہے ہيں -

.......

/169