حضرت علی علیہ السلام کے فضائل اور کمالات کے بارے میں کچھ لکھنا جتنا آسان ہے اتنا مشکل بھی ہے اس لیے کہ حضرت علی علیہ السلام فضائل و کمالات کا ایسا بیکراں سمندر ہیں جس میں انسان جتنا غوطہ لگاتا جائے گا اتنا زیادہ فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا یہ ایسا ایسا سمندر ہے جس کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔ کیا خوب کہا خلیل ابن احمد نے جب ان سے امیر المومنین علی علیہ السلام کے فضائل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: کیف اصف رجلاً کتم اعادیه محاسنه و حسداً و احبّائه خوفاً و ما بین الکلمتین ملأالخائفین؛(۱) میں کیسے اس شخص کی توصیف و تعریف کروں جس کے دشمنوں نے حسادت اور دوستوں نے دشمنوں کے خوف سے اس کے فضائل پر پردہ پوشی کی ہو ان دو کرداروں کے درمیان مشرق سے مغرب تک فضائل کی دنیا آباد ہے۔اس مقالہ میں امیر المومنین علی علیہ السلام کے بعض ان کمالات و فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنی زبان مبارک سے بیان فرمائے اور اہلسنت کی معتبر کتابوں میں نقل ہوئے ہیں:علی (ع) کو خدا اور نبی (ص) کے علاوہ کسی نے نہ پہچاناسچ مچ یہ کون سی ذات ہے جسے کوئی نہ پہچان سکا کوئی اسے خدا مان بیٹھا اور کوئی اس کی بندگی میں شک کرنے لگا۔ در مسجد کوفه شهیدش کردند گفتند مگر اهل نماز است علی؟! کہا کہ کیا علی نماز بھی پڑھتے تھے؟! کہ انہیں مسجد کوفہ میں شہید کر دیا۔اور جس نے علی (ع) کو حقیقی معنی میں پہچانا وہ صرف خدا اور اس کا رسول (ص) ہیں۔پیغمبر اکرم (ص) نے امیر المومنین (ع) سے خطاب میں کہا: «یا علی ما عرف اللّه حق معرفته غیری و غیرک و ما عرفک حق معرفتک غیر اللّه و غیری؛(۲) اے علی! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا، اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کما حقہ کسی نے نہیں پہچانا۔۔۔اور دوسری جگہ فرمایا: «یا علی لایعرف اللّه تعالی الّا انا و انت و لایعرفنی الّا اللّه و انت و لا یعرفک الّا اللّه و انا؛(۳) اے علی ! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور مجھے خدا اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا۔لا تحصیٰ فضائلوہ پیغمبر جنہوں نے علی علیہ السلام کی شناخت کا اعتراف کیا انہوں نے آپ(ع) کے فضائل کو شمار سے باہر بتلایا کہ علی فضائل انتے زیادہ ہیں کہ کوئی انہیں شمار میں نہیں لا سکتا۔ابن عباس کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «لو انّ الفیاض(۴) اقلام و البحر مدادٌ و الجنّ حسّابٌ و الانس کتابٌ مااحصوا فضائل علیّ بن ابی طالبٍ؛(۵) اگر تمام درخت قلم، تمام دریا سیاہی، تمام جن حساب کرنے اور تمام انسان لکھنے بیٹھ جائیں تو علی علیہ السلام کے فضائل کا شمار نہیں کر سکتے۔اور دوسری جگہ آپ نے فرمایا: «انّ اللّه تعالی جعل لاخی علیٍّ فضائل لاتحصی کثرة فمن ذکر فضیلةً من فضائله مقرّابها غفر اللّه له ما تقدّم من ذنبه و ماتأخّر ‘‘ بیشک خداوند عالم نے میرے بھائی علی کے لیے بے شمار فضائل قرار دئے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں سے ایک فضیلت کو عقیدت کے ساتھ بیان کرے تو اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔ . و من کتب فضیلةً من فضائله لم تزل الملائکة تستغفرله ما بقی لتلک الکتابه رسم، و من استمع فضیلةً من فضائله کفّر اللّه له الذّنوب الّتی اکتسبها بالاستماع و من نظر الی کتابٍ من فضائله کفّر اللّه له الذّنوب الّتی اکتسبها بالنّظر،(۶) اور اگر کوئی شخص ان فضائل میں سے کسی ایک کو لکھے تو جب تک وہ نوشتہ باقی رہے گا ملائکہ اس کے لیے استغفار کرتے رہیں گے اور اگر کوئی ان فضائل میں سے کسی ایک کو سنے تو خدا وند عالم اس کے ان تمام گناہوں کو جو اس نے کان کے ذریعے سے انجام دئے ہوں گے معاف کر دے گا۔ اور اگر کوئی شخص علی کے فضائل کے نوشتہ پر نگاہ کرے گا تو خدا اس کے ان تمام گناہوں کو جو اس نے آنکھ کے ذریعے انجام دئے ہوں گے معاف کر دے گا۔آپ تنہا تمام کمالات کے مالک ہیںعلی علیہ السلام نہ صرف تمام اچھے لوگوں کے صفات کے تنہا حامل ہیں بلکہ پیغمبر اسلام (ص) کے علاوہ تمام اولو العزم پیغمبروں کے اوصاف کا بھی خلاصہ ہیں۔اہلسنت و الجماعت کے ایک معروف عالم بیہقی نے پیغمبر اکرم (ص) سے یوں روایت کی ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: «من احبّ ان ینظر الی آدم فی علمه و الی نوحٍ(ع) فی تقواه و ابراهیم فی حلمه و الی موسی فی عبادته فلینظر الی علی بن طالب علیه الصّلوة و السّلام؛(۷) جو شخص آدم (ع) کے علم کو، نوح (ع) کے تقویٰ کو، ابراہیم (ع) کے حلم کو اور موسی(ع) کی عبادت کو دیکھنا چاہتا ہے تو وہ علی بن ابی طالب پر نگاہ کرے۔اسی روایت کو دوسرے انداز میں بھی نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «من اراد ان ینظر الی آدم فی علمه و الی نوح فی مهمه و الی یحیی بن زکریّا فی زهده، و الی موسی بن عمران فی بطشه، فلینظر الی علی بن ابی طالب علیه السلام؛(۸) جو شخص آدم کو ان کے علم میں، نوح کو ان کے فہم و ادراک میں، یحییٰ کو ان کے زہد میں اور موسی کو ان کی عبادت میں دیکھنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ علی بن ابی طالب پر نگاہ کرے۔علی علیہ السلام سے پیغمبر اکرم(ص) کو محبتجو شخص تمام اوصاف کا مالک ہو وہ تمام دلوں کا محبوب ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) جو خود تمام کائنات کے محبوب ہیں وہ علی علیہ السلام سے عشق و محبت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس لیے کہ آیت مباہلہ سے یہ ثابت ہے کہ علی (ع) نفس پیغمبر ہیں ’’ انفسنا‘‘ اور ہر انسان کو اپنی جان سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ لہذا جب علی علیہ السلام نفس و جان پیغمبر ہیں تو یقینا ان کے نزدیک سب سے زیادہ عزیز ہیں۔اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) نے بارہا فرمایا : «من احبّ علیّاً فقد احبّنی...؛(۹) جو علی کو دوست رکھے مجھے دوست رکھے گا۔ نیز فرمایا: «محبّک محبّی و مبغضک مبغضی؛(۱۰) تمہارا دوست میرا دوست ہے اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے۔ایک شخص نے پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھا: «یا رسول اللّه انّک تحبّ علیّاً؟ قال: او ماعلمت انّ علیّاً منّی و انا منه؛(۱۱) اے رسول خدا آپ علی کو چاہتے ہیں؟ فرمایا: کیا تم نہیں جانتے علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔مناقب میں پوری سند کے ساتھ رسول اسلام (ص) سے نقل ہوا ہے: «انّ اللّه عزّ و جلّ امرنی بحبّ اربعةٌ من اصحابی و اخبرنی انّه یحبّهم. قلنا: یا رسول اللّه من هم؟ فلکنّا یحبّ ان یکون منهم، فقال: الا انّ علیّاً منهم ثم سکت، ثمّ قال: الا انّ علیّاً منهم ثمّ سکت؛(۱۲) خداوند عالم نے مجھے اپنے صحابیوں میں سے چار صحابی کو دوست رکھنے کا حکم دیا ہے اور اس نے خبر دی ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔ میں نے پوچھا اے رسول خدا وہ کون ہیں؟ ہم میں سے بھی ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ ان میں سے ہو۔ رسول اسلام(ص) نے فرمایا: آگاہ ہو جاو علی ان میں سے ایک ہیں۔ اس کے بعد آپ خاموش ہو گئے پھر دوبارہ فرمایا: یقینا علی ان میں سے ایک ہیں اور اس کے بعد آپ نے خاموشی اختیار کر لی۔عائشہ کہتی ہیں: پیغمبر اکرم (ص) جب حالت احتضار میں تھے تو فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ میرے دوست کو میرے پاس بلاو۔ میں ابوبکر کی تلاش میں گئی اور انہیں بلا کر لائی۔ جب ابوبکر پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آئے تو پیغمبر اکرم (ص) ان سے اپنی نگاہیں موڑ لی اور پھر فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ حفصہ عمر کی تلاش میں گئیں اور عمر کو بلا کر لائیں جونہی پیغمبر کی نگاہ عمر پر پڑی تو آپ نے فورا منہ پھیر لیا۔ پھر فرمایا: ادعوا الیّ حبیبی؛ عائشہ کہتی ہیں: میں نے کہا وائے ہو تم لوگوں پر رسول خدا (ص) علی بن ابی طالب کو بلوانا چاہتے ہیں۔ خدا کی قسم وہ صرف علی کو چاہتے ہیں۔ اس کے بعد علی علیہ السلام کو بلوایا گیا جب پیغمبر اسلام (ص) نے علی کو دیکھا تو انہیں سینے سے لگایا، اس کے بعد انہیں ایک ہزار حدیثیں تعلیم کی کہ جن میں سے ہر ایک ہزاروں حدیثوں کا باب تھی۔(۱۳)ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «علیّ منّی مثل رأسی من بدنی؛(۱۴) علی میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے میرے بدن پر سر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی علی علیہ السلام سے محبت کسی غرض کے تحت نہیں تھی بلکہ آپ میں موجود فضائل و کمالات کی بنا پرآپ سے محبت تھی جو فضائل و کمالات خود پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی زبان مبارک سے گاہ بگاہ بیان فرمائے تھے۔علی علیہ السلام کا علمعلی علیہ السلام وہ شخص نہیں جنہوں نے کسی مدرسے یا کسی معلم کے پاس علم اکتساب کیا ہو بلکہ آپ کا علم ’’ علم لدنی‘‘ ہے یعنی خداوند عالم کی طرف سے عطا کردہ ہے۔ اسی وجہ سے آپ کا علم تمام انسانوں سے برتر اور کسی سے قابل قیاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلسنت کے منابع میں آپ کو ’’ اعلم الناس‘‘ کہا گیا ہے ذیل میں چند موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:۱: پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «اعلم امّتی من بعدی علیّ بن ابی طالب علیه السّلام؛(۱۵) میری امت میں سب سے زیادہ دانا اور عالم شخص علی بن بن ابی طالب ہیں۔۲: عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں: پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: «قُسّمت الحکمة علی عشرة اجزاءٍ فاعطی علیّ تسعة و النّاس جزءً واحداً؛(۱۶) حکمت اور علم کے دس جزء اور حصے ہیں جن میں سے نو صرف علی کو عطا کئے گئے ہیں اور ایک حصہ باقی امت کے پاس ہے۔تمام بشری علوم اور عصر حاضر کی ترقیاں علم کے اسی دسویں حصے کا نتیجہ ہیں اور علی علیہ السلام کا علم تمام انسانوں کے علم سے نو گنا زیادہ ہے۔ اور اس کا راز یہ ہے کہ اس کا سرچشمہ وحی الہی ہے یعنی پیغمبر اکرم (ص) کے ذریعے اللہ کی جانب سے علم ان تک منتقل ہوا ہے جیسا کہ خود آپ (ص) نے فرمایا: انا مدینة العلم و علیٌ بابها، فمن ارادالعلم فیأت الباب؛(۱۷) میں شہر علم ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں جو شخص شہر علم میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اسے چاہیے کہ دروازے سے داخل ہو۔۳: جناب عائشہ علی علیہ السلام کے بارے میں کہتی ہیں: «هو اعلم النّاس بالسّنة؛(۱۸) علی سنت پیغمبر کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔اے کاش خود عائشہ اس حدیث پر عمل کر لیتیں اور جنگ جمل میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی نصیحتوں پر عمل کر لیتیں۔۴: پیغمبر اکرم (ص) نے جناب فاطمہ زہرا (س) کو علی علیہ السلام کے عقد میں دے کر شادی کروا کر فرمایا: «زوّجتک خیر اهلی، اعلمهم علماً و افضلهم حلماً و اوّلهم سلماً؛(۱۹) میں نے آپ کی شادی سب سے بہترین رشتہ دار سے کرائی ہے جو علم میں سب سے زیادہ عالم، حلم میں سب سے افضل، اور اسلام قبول کرنے میں سابق ترین شخص ہے۔علی (ع) کی عبادت اور بندگیامیر المومنین علی علیہ السلام کی عبادت ’’شہرہ آفاق‘‘ رکھتی ہے۔ علم لدنی کے مالک خداوند عالم کی جتنی معرفت رکھتے ہیں اسی مقدار میں اس کی عبادت اور اس کی بارگاہ میں راز و نیاز اور راتوں کو جاگ جاگ کر مناجات کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ خداوند عالم ملائکہ کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کی عبادتوں پر فخر کرتا ہے۔پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:ایک دن صبح سویرے جبرئیل انتہائی خوشی کے ساتھ میرے پاس آئے میں نے پوچھا: میرے دوست کیا بات ہوئی ہے کہ آج آپ اتنے خوش نظرآ رہے ہیں؟ کہا: اے محمد! کیونکر خوش نہ ہ
23 مئی 2013 - 19:30
News ID: 422353
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے علی علیہ السلام سے فرمایا: «یا علی لایعرف اللّه تعالی الّا انا و انت و لایعرفنی الّا اللّه و انت و لا یعرفک الّا اللّه و انا؛ اے علی ! خدا کو میرے اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور مجھے خدا اور آپ کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا اور آپ کو میرے اور خدا کے علاوہ کسی نے نہیں پہچانا۔