22 مئی 2013 - 19:30
حضرت على (ع) كے حالات زندگى

ائمہ طاہرين اور ان كى تعداد پيغمبر اكرم(ص) كى رحلت كے بعد ، آپ(ص) كے جانشينوں اور لوگوں كے دين و دنيا كے پيشواؤں كى تعداد بارہ ہے اور اس سلسلہ ميں عامہ اور خاصہ دونوں ہى نے پيغمبر اكرم (ص) سے بہت سى روايتيں نقل كى ہيں يہاں تك كہ ان ميں سے بہت سى روايتوں ميں ائمہ معصومين (ع) كے ناموں كى صراحت بھى موجود ہے(1)_ ان حضرات كى تعداد اور ناموں پر رسول اكرم (ص) كى نص كے علاوہ ہر امام (ع) نے خدا كے حكم سے اپنے بعد والے امام (ع) كا تعارف بھى كراياہے_ جيسا كہ پہلے امام حضرت امير المؤمنين نے شہادت كے وقت اپنے بيٹے امام حسن (ع) كے نام كى تصريح فرمادى تھى اور امام حسن (ع) نے بھى اپنى وفات كے وقت اپنے بھائي امام حسين(ع) كے عہدہ امامت كا اعلان كرديا تھا نيزيہى عمل تمام ائمہ معصومين (ع) نے انجام ديا_

ائمہ معصومين كے نام:1 _ حضرت امير المؤمنين على بن ابيطالب (ع)2 _ حضرت امام حسن مجتبى (ع)3 _ حضرت امام حسين (ع)4 _ حضرت امام سجاد (ع) 105 _ حضرت امام محمد باقر (ع)6 _ حضرت امام جعفر صادق (ع)7 _ حضرت امام موسى كاظم (ع)8 _ حضرت اما م رضا (ع)9_ حضرت امام محمد تقى (ع)10_ (ع) حضرت امام على النقى (ع)11 _ حضرت امام حسن العسكرى (ع)12 _ حضرت امام مہدى (حجة بن الحسن) (ع)ائمہ معصومين كى سيرتہمارے بارہ امام پيغمبر(ص) اكرم كى تعليم و تربيت كا كامل نمونہ تھے، ان حضرات كى سيرت ، رسول(ص) خدا كى سيرت تھى _البتہ دو سو پچاس سال كى مدت (يعنى 11 ھ ق سے ليكر 260 ھ ق ) تك جب يہ معصومين(ع) حضرات لوگوں كے درميان موجود تھے اس زمانہ ميں مختلف حالات پيش آتے رہے كہ جن ميں ائمہ معصومين (ع) كى زندگى مختلف شكلوں ميں جلوہ گر ہوتى رہى ليكن پھر بھى انہوں نے پيغمبر (ص) اكرم كے اصلى مقصد يعنى اسلام كى نشر و اشاعت اور اصول و فروع كو تغيير و تبديلى اور تحريف سے محفوظ ركھنے نيز ممكنہ حد تك لوگوں كى تعليم و تربيت تا سلسلہ ميںكسى قسم كا دريغ نہيں كيا_پيغمبر اكرم(ص) اپنے 23 سالہ تبليغى دور ميں زندگى كے تين مرحلوں سے گزرے ہيں ، چنانچہ بعثت كے شروع كے تين سال آپ نے پوشيدہ طور پرتبليغ كرنے ميں گزارے، اس كے بعد دس سال تك مسلسل مكہ ميں على الاعلان لوگوں كو دعوت اسلام ديتے رہے جس ميں آپ(ص) اور آپ(ص) كے 11پيروكار دونوں ہى دشمنان اسلام كى طرف سے ڈھائے جانے والے سخت مظالم اور آزار كا شكار رہے ، اس دور ميں آپ (ص) كودين اسلام كى تبليغ كے لئے كسى طرح كى آزادى حاصل نہيں تھى _ پھر آخر كے دس سال اس حالت ميں گزرے كہ حكومت اسلامى كى بنياد ركھى گئي اور اسلام نے اپنى فاتحانہ ترقى اور پيش قدمى كو جارى ركھا اور ہر لحظہ مسلمانوں پر كمال و دانش كے دروازے كھلتے رہے_ائمہ معصومين گوناگوں حالات سے دوچار تھے_ ان كے زمانے كى صورت حال، پيغمبراكرم (ص) كے ہجرت كے پہلے والے زمانہ كے ساتھ بہت زيادہ مشابہت ركھتى تھى كبھى توبعثت كے پہلے تين سالوں كى طرح ، كسى صورت سے بھى اظہار حق ممكن نہ تھا اسى وجہ سے يہ حضرات بھى نہايت احتياط كے ساتھ اپنے فرائض پر عمل كرتے رہے ہيں جيسا كہ چوتھے امام حضرت زين العابدين (ع) نے يہى كيا_اور كبھى ہجرت سے دس سال پہلے كى طرح صرف نشر احكام اور معارف دين كى تعليم ديتے اور افراد كى تربيت كرتے تھے ادھر حكاّم بھى ايذا رسانى سے باز نہيں آتے تھے اور ہر روز ايك نئي مشكل پيدا كرديتے تھے_پيغمبراكرم (ص) كى ہجرت كے بعد كے حالات سے كسى حد تك حضرت امام على (ع) كے پانچ سالہ دور حكومت كے حالات اور حضرت امام حسن (ع) كى زندگى كے تھوڑے دنوں كے حالات كے مشابہ تھے_ نيز اسى طرح كى صورت حال حضرت امام حسين (ع) كى زندگى ميں بھى پيش آئي،جس ميں حق مكمل طور پر جلوہ گر ہوا اور اس نے شفاف آئينہ كى طرح پيغمبر اكرم (ص) كے زمانہ كے عمومى حالات كو پيش كيا_اس زمانہ كے علاوہ كہ جس كى طرف اشارہ كيا گيا ہے اور كسى بھى زمانہ ميں ائمہ معصومين نے آشكارہ طور پروقت كے حكمرانوںكى مخالفت نہيں كى اور نہ ہى ان سے كھلم كھلا برسر پيكار ہوسكے اسى وجہ سے ان كے لئے قول و عمل ميں تقيہ ناگزير تھا _ اس كے باوجود بھى ان كے دشمن، ان كى شمع حيات كو گل كرنے اور ان كے آثار كو مٹانے كى كوششوں ميں لگے رہے_ 12اختلاف كى اصل وجہپيغمبر اكرم (ص) كے بعد اسلامى معاشرہ ميں مختلف حكومتيں بنيں اور انہوں نے اپنے آپ كو حكومت اسلامى كا نام ديا_ بنيادى طور پر يہ تمام حكومتيں اہل بيت كى مخالف تھيں_نيز يہ مخالفت اور دشمنى ناقابل آشتى ،بنيادى اور اعتقادى تھي_ يہ صحيح ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) نے اپنى احاديث ميں اپنے اہل بيت (ع) كے فضائل و مناقب بيان فرمائے ہيں كہ جن ميں سے ايك اہم ترين سمجھى جانے والى بات يہ ہے كہ اہل بيت (ع) ،احكام دين ،معارف قرآن اور خدا كى حلال و حرام كردہ چيزوں سے مكمل طور پر آگاہ تھے اور وہ انھيں لوگوں كے لئے بيان فرماتے تھے نتيجہ ميں ان كى تعظيم اور احترام تمام امت پرلازم تھا، ليكن امت نے پيغمبراكرم (ص) كى اس وصيت كاحق ادا نہيںكيا_مختلف مقامات خصوصاً غدير خم ميں پيغمبراكرم (ص) (ص) نے حضرت على (ع) كو اپنا جانشين معين فرماديا تھا، ليكن اس كے برخلاف كچھ مسلمانوں نے پيغمبراكرم (ص) كى رحلت كے بعد دوسروں كو پيغمبر(ص) كا جانشين چن ليا اوراہل بيت(ع) كوان كے مسلّم حق سے محروم كرديا_ نتيجہ ميں حكومت وقت ،اہل بيت كوہميشہ اپناخطرناك رقيب شمار كرتى رہى اور مختلف طريقوں سے انہيںختم كردينے يا گوشہ نشين بنادينے كى كوشش ميں لگى رہى _ائمہ معصومين پيغمبر(ص) اعظم كى سيرت كوامت اسلامى كے سامنے پيش كرتے تھے، حكومت اسلامى كے فرائض كى رعايت اور اسلام كے تمام احكام كے اجراء كو ضرورى سمجھتے تھے_ ليكن پيغمبر(ص) كے بعد تشكيل پانے والى حكومت ، احكام اسلامى كى مكمل رعايت اور سيرت پيغمبر(ص) كى متابعت كى پابندى نہيں كرتى تھى بلكہ ہميشہ اپنى نفسانى اور سياسى خواہشوں كے مطابق احكام اور قوانين كى تفسير كرتى رہى ، اميرالمؤمنين _ان كے بارے ميں فرماتے ہيںكہ :' بيشك يہ دين اشرار كے ہاتھوں ميںاسير، نيز ہوا وہوس اور دنيا طلبى كا ذريعہ ہوگياہے' (2)ابن ابى الحديد شرح نہج البلاغہ ميں حضرت على (ع) كى خصوصيات كوبيان كرنے ہوئے فرماتے 13ہيں:'حضرت على _شريعت كے پابند تھے اور جو كچھ دين كے خلاف تھا اس كو يكسر نظر انداز كر ديتے تھے اور اس پر عمل نہيں كرتے تھے_'اسى طرح حضرت على (ع) خود فرماتے ہيں كہ :' اگر دين و تقوى مانع نہ ہوتا توميںعرب كا زيرك ترين شخص ہوتا_'ليكن دوسرے خلفاء نے جو خود بہتر سمجھا اور جوان كى رائے كے مطابق تھا اسى پر عمل كيا، چاہے وہ شرع كے مطابق ہو يا نہ ہو _(3)خداوند عالم نے چند آيات ميں امت اسلامى كوحتى كہ پيغمبر اكرم (ص) كو احكام اسلامى ميں تبديلى كرنے سے منع كيا ہے_ پيغمبر(ص) اسلام نے بھى ان ناقابل تغيير احكام اور قوانين كى روشنى ميں لوگوںكے درميان ايسى روش اختيار كى كہ جس سے قوانين الہى كے اجراء ميں زمان ، مكان اوراشخاص كے اعتبار سے كوئي فرق نہ رہ جاتا_پيغمبر اكرم (ص) كى سيرت طيبہ كا مقصد صرف يہ تھا كہ احكام آسمانى ،لوگوں كے درميان عادلانہ اور مساوى طور پر جارى ہوسكيں اوراسلام كے قوانين ميں كوئي تبديلى اور تحريف واقع نہ ہو اسى روش كے ذريعہ آپ(ص) نے لوگوں كے درميان ہر طرح كے امتياز كو ختم كرديا حتى كہ آپ(ص) ،خدا كے حكم سے واجب الاطاعت حاكم اور فرمانروا قرار پائے _پيغمبراكرم (ص) كے لئے ان كى زندگى ميں بجز اس امتياز كے كہ جو دستور خداوندى كے وجہ سے تھا ذرہ برابر بھى لوگوں كى بہ نسبت كوئي امتياز نہ تھا _ليكن ائمہ معصومين كے زمانہ ميں برسر اقتدار حكومتوں نے ظاہرى لحاظ سے بھى اپنى سيرت كو پيغمبر اكرم(ص) كى سيرت سے منطبق نہيںكيا اور اپنى راہ و روش كو يكسر بدل ڈالا_1_ رسول(ص) خدا كى رحلت كے بعد اسلامى معاشرہ ميں شديدترين اختلافات رونما ہوئے اور امت اسلامي، طاقتور اور كمزور دو دستوں ميں تقسيم ہوگئي _(4) اور ايك گروہ كى عزت و آبرو اور جان ومال دوسرے گروہ كى ہوا وہوس كا بازيچہ بن گئي _ 142_ نام نہاد اسلامى حكومتيں تدريجاً قوانين اسلامى كو بدلنے لگيں اوركبھى اسلامى معاشرہ كى مصلحت كو بالائے طاق ركھتے ہوئے اپنى حكومت اور اقتدار كے تحفظ كى خاطر احكام الہى پر عمل كرنے سے كتراتى تھيں اور اسلامى دستور و قوانين كى مخالفت كرتى تھيں_يہ روش روز بروز وسعت پاتى گئي اورنوبت يہاں تك پہونچى كہ زمامداران حكومت اور كام كرنے والوں ميں ذرّہ برابر احكام اسلامى اور دينى حدود كى پابندى كا پاس و لحاظ نہ رہا_ليكن ائمہ معصومين ، قرآن كے حكم كے مطابق احكام اسلام اور سيرت پيغمبر(ص) كے اجراء كو ہميشہ اور تمام لوگوں كے لئے لازم جانتے تھے، اسى اختلاف اور تضاد كى بناپر اس وقت كى حكومتيں اپنى طاقت كا فائدہ اٹھاتے ہوئے ائمہ معصومين كى حيثيت كوكمزور بنانے اور ان كومعاشرے اور لوگوں سے دور كرنے كى كوششيں كرتى رہيں اور ہر ممكن طريقہ سے ان كے نور كوگل كرنے ميں لگى رہيں_ (5)اہل بيت شديد مشكلات سے دوچاررہے اور سخت ترين كينہ توز دشمنوں ميں رہنے كے باوجود بھى حقائق دين كى تبليغ كرتے رہے اور صالح افراد كى تربيت سے دست بردار نہ ہوئے_ان كى مسلسل تعليم و تربيت ہى كا اثر تھا كہ حق كے پيرو كاروں كى تعداد، رحلت پيغمبر(ص) (ص) كے وقت مختصر ہونے كے باوجود اواخر عصر ائمہ (ع) ميں كثير ہوگئي_على ابن ابيطالب _مذكورہ بالا مقدمہ ميں ہم نے ائمہ معصومين (ع) كى عمومى سيرت اورانكى معاصرحكومتوںكا اجمالى ذكر كيا ہے نيز ان كے درميان اختلاف كے اسباب كى تحقيق پيش كر دى ہے ،اور اب ہم ائمہ معصومين (ع) كى سوانح عمرى كے بارے ميں بقدر گنجائشے دروس بيان كريںگے يہ توواضح ہے كہ تمام معصوم پيشواؤں كى مكمل علمى ، سياسى اور اجتماعى زندگى كو چند گھنٹوں ميں بيان نہيںكيا جاسكتا_ لہذا 15مختصر وقت كے پيش نظر، رہبران الہى كى زندگى كا سرسرى جائزہ ہى پيش كيا جارہا ہے_ابتدا پہلے امام حضرت اميرالمؤمنين (ع) كى زندگى سے كى جارہى ہے_ آپ(ع) كى زندگى كو پانچ حصوں ميںتقسيم كيا جاسكتا ہے_الف_ ولادت سے بعثت پيغمبر(ص) تكب_ بعثت سے ہجرت پيغمبر(ص) تكج_ ہجرت سے رحلت پيغمبر (ص) تكد_ رحلت پيغمبر(ص) سے خلافت تكہ_ خلافت سے شہادت تكاب ہم ان پانچوں حصوں ميں سے ہر حصہ كے بارے ميں بحث كا نچوڑ پيش كريں گے_ولادت سے بعثت پيغمبر(ص) تكحضرت على بن ابى طالب _جمعہ كے دن 13 رجب 30 ھ ق عام الفيل (بعثت سے دس سال پہلے) خانہ خدا ميںپيدا ہوئے_(6) ان كے پدر عاليقدر ' عمران'(7) ابن عبدالمطلب ابن ہاشم ابن عبد مناف تھے اور ان كى والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد ابن ہاشم ابن عبد مناف تھيں_حضرت على _نے چھ سال كى عمر تك اپنے والدين كے پاس زندگى گزارى اس كے بعد حضرت محمد ابن عبداللہ كى درخواست پر اُن كے پاس چلے آئے اور آپ(ص) كے دامن تربيت ميں رہے_(8)حضرت على (ع) اپنے اس زمانہ كے بارے ميں يوں فرماتے ہيں:وَضَعنى فى حجْرہ وَ اَنا وَلَدٌ يَضُمُنى الى صَدْرہ وَ يَكْنُفنُى فى فَراشہ وَ يُمسُّنّى جَسَدَہ وَ يُشمَنّى عَرْفَہُ 16و كانَ يَمْضَغْ الشيء ثمَّ يُلقمنيہ ...وَ لَقَد كُنتُ أتَّبعُہُ أتَّبعُہُ إتّباع الفَضيل أثر اُمّہ، يَرفَعُ لى فى كُلّ يوم: من اخلاقہ علماً و يا مُرنى بالاقتداء بہ، وَ لَقَدْ كان يُجاور فى كل سُنَة: بحراء فاراہ و لا يراہ غيري ...(9)' بچپن ميں پيغمبر (ص) مجھے اپنى آغوش ميں ليتے اپنے سينہ سے لگاتے اور اپنى مخصوص آرامگاہ پر جگہ ديتے اپنا جسم اقدس ميرے جسم سے مس كرتے اور اپنى خوشبو سے ميرے مشام جاں كو معطر فرماتے غذا چبا كر ميرے منہ ميں ركھتے _'ميں رسول(ص) خدا كى اس طرح پيروى كرتا تھا كہ جيسے ( اونٹ كا ) شير خوار بچہ اپنى ماں كے پيچھے پيچھے چلتا ہے_ آنحضرت (ص) ہر روز ميرے لئے اپنے اخلاق كا عَلَم بلند كرتے تھے اورمجھے حكم ديتے تھے كہ