ابنا: وزارت خارجہ کے نئے ترجمان سید عباس عراقچی نے آج اپنی پہلی پریس بریفنگ میں استنبول میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سعید جلیلی اور یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کی مجوزہ ملاقات کے بارے میں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ محترمہ ایشٹن اس ملاقات میں مثبت جواب دیں گي۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکی حکام کے بیانات کو مایوس کن قراردیا اور کہا کہ ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی حکام کو حقائق کا صحیح ادراک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسیوں سے کبھی کوئي فائدہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیک نیتی پرمبنی بامعنی مذاکرات وہ واحد راہ ہے جو نتیجہ بخش ثابت ہوتی ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے حالیہ زلزلوں کے بعد بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے بارے میں آئي اے ای اے کے سربراہ یوکیا آمانو کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی انرجی کے ساتھ سیف گارڈ معاہدوں کے مطابق تعاون کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے جدہ میں ایران، مصر، ترکی اور سعودی عرب کے چار طرفہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ تہران اس بات کا خیرمقدم کرتا ہےکہ شام کے بحران کو حل کرنے کے افق روز بروز وسیع اور روشن ہوتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران چار طرفہ کمیٹی کو دوبارہ فعال کرنے کی مصر کی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے۔
.....
/169