ابنا: بہت سے تجزیہ نگاروں کی رائے کے عین مطابق غاصب اسرائيل نے شام پر فضائی حملہ کیا ہے ۔ علاقائی سیاست پر نظر رکھنے والے کافی دنوں سے اس بات کا امکان ظاہر کررہے تھے کہ شامی حکومت کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں کی شکست اورانکے حوصلوں کو بلند کرنے کے لئے اسرائیل کی براہ راست مدد کی ضرورت ہے اور یہ فضائي حملے کی صورت میں ہی ممکن ہے ۔ اسرائیلی طیاروں نے جب دمشق کے اطراف میں بعض مقامات پر ہوائي حملہ کیا تو تجزیہ کاروں کا تجزیہ مکمل طور پر درست ثابت ہوگيا۔اس حملے نے امت مسلمہ اور بعض اسلامی ممالک کی مذہبی اور اسلامی تنظیموں کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں ۔آئیے سنتے ہیں معروف تجزیہ نگار صفدر رضا اس موضوع پر کیا اظہار خیال کر رہے ہیںاس سے پہلے جب بشار اسد کے مخالف سرگرم عمل باغیوں کی عسکری کاروائیوں کے خلاف کوئی آواز اٹھاتا تو عالمی حالات بالخصوص مشرق وسطی کے اندرونی حالات سے بے خبر یہ لوگ بشاراسد کے خلاف فوجی کاروائیوں کو جہاد اور شامی حکومت کو سیکولر اور نہ جانے کن کن القابات سے بدنام کرتے تھے لیکن اسرائيل نے فضائی حملہ کرکے اکثرذہنوں سے اس تاثر کو ختم کردیا کہ بشار اسد کے خلاف عسکری حملے اور موجودہ بغاوت کسی اسلامی ہدف کے لئے ہے بلکہ یہ بحران اسرائيل کےاہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے شروع کیا گیا ہے ۔شام گزشتہ کافی عرصے سے فلسطین کی مجاہد تنظیموں کا میزبان اور اسرائيل کے خلاف علاقائی مزاحمتی بلاک کا بنیادی حصّہ رہا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل کافی عرصے سےبشار اسد کو فلسطینی حمایت کی سزا دینا چاہتے تھے لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا ۔ عرب ممالک بالخصوص جب مصر ، تیونس اور لیبیا و غیرہ میں اسلامی بیداری کی تحریک نے زور پکڑا تو اسلامی بیداری کی اس تحریک کو بدنام کرنے اور اس گدلے پانی سے مچھلی پکڑنے کے لئے امریکہ نے سعودی عرب ، اردن اور ترکی کی مدد سے مختلف ممالک میں موجود القاعدہ اور تکفیری گروہوں سے تعلق رکھنے والے گروہوں کو اکھٹا کیا اور انہیں بشار اسد کے خلاف عسکری تحریک شروع کرنے کا گرین سگنل دے دیا۔ القاعدہ اور تکفیری گروہوں سے تعلق رکھنے والے یہ جنگجو النصرہ کے پلیٹ پر شام میں جمع ہوئے ۔ امریکہ نے ہتھیار دیئے سعودی عرب نے پیئرو ڈالر پانی کی طرح بہایا اور ترکی نے تربیت اور شام کے ساتھ اپنی ملحقہ سرحد کے ذریعے انہیں شام میں داخل ہونے کا راستہ اور ضروری سہولیات مہیا کیں گزشتہ دو سالوں سے ان تمام ممالک کی مشترکہ کوششوں سے بشار اسد کی حکومت ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے عالمی سطح من جملہ جنرل اسمبلی ، سیکوریٹی کونسل ،عرب لیگ اور خلیج فارس تعاون کونسل کے ذریعے بشار اسد پر ہر سطح کا دباؤ ڈالا لیکن بشار اسد نے سفارتی اور جنگي دونوں محاذوں پر اپنے مخالفین کا بھر پور مقابلہ کیا ۔سفارتی جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران روس اور چین بھی بشار اسد کے ساتھ کھڑے ہوگے اس تمام صورتحال میں شام کے اندر عسکری کاروائیاں بھی پورے زور و شور سے جاری رہیں لیکن بشار اسد کی عوامی حمایت اور شام کی فوجی طاقت نے عسکریت پسندوں کو ہر محاذ پر شکست سے دوچار کردیا گزشتہ چند دنوں میں جب نام نہاد جہادیوں اور امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں کو مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا تو تجزیہ نگار یہ کہنے لگے تھے کہ اب اسرائیل کا حملہ یقینی ہے کیونکہ اسرائیل اپنے ساتھیوں کی مدد کے لئے براہ راست حملے کا ضرور مرتکب ہوگا۔......./169
5 مئی 2013 - 19:30
News ID: 416441
بہت سے تجزیہ نگاروں کی رائے کے عین مطابق غاصب اسرائيل نے شام پر فضائی حملہ کیا ہے ۔ علاقائی سیاست پر نظر رکھنے والے کافی دنوں سے اس بات کا امکان ظاہر کررہے تھے کہ شامی حکومت کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں کی شکست اورانکے حوصلوں کو بلند کرنے کے لئے اسرائیل کی براہ راست مدد کی ضرورت ہے اور یہ فضائي حملے کی صورت میں ہی ممکن ہے ۔ اسرائیلی طیاروں نے جب دمشق کے اطراف میں بعض مقامات پر ہوائي حملہ کیا تو تجزیہ کاروں کا تجزیہ مکمل طور پر درست ثابت ہوگيا۔