ابنا: پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں منگل کی شام چار بم دھماکوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد اب چھ ہوگئی ہے، جبکہ 45 افراد زخمی ہیں جن میں سے دس افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
ہلاک ہونے والوں میں فرنٹیئر کور کا ایک ہلکار بھی شامل ہے۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر کوئٹہ کے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکہ میں اسّی سے سو کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ترجمان ابوبکر صدیق نے ذرائع بلاغ کے نمائندوں کو فون کرکے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول ہے۔ پہلے دھماکہ ٹھیک اسی جگہ پر ہوا، جہاں سے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبدالخالق ہزارہ اپنے انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد گزر رہے تھے۔
فرنٹیئر کور کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پہلا دھماکہ نیچیری کے علاقے میں ہوا اور جب فرئنٹیر کور کے اہلکار نے بارود سے بھری گاڑی کی تلاشی لینی شروع ہی کی تھی تو اس میں سوار ایک خود کش حملہ آور نے گاڑی کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ انہوں بتایا کہ زور دار دھماکے سے سیکیورٹی اہلکار موقع پر ہی شہید ہوگیا۔
پولیس کے مطابق گاڑی میں سوار خود کش حملہ آور ہزارہ برادری کے رہنما کو نشانہ بنانے کے لئے علمدار روڈ کی جانب جارہا تھا لیکن جب سیکیورٹی اہلکار نے گاڑی کی تلاشی کے لئے اسے روکا تو اس نے گاڑی کو دھماکے سے اُڑا دیا۔
کوئٹہ پولیس کے سربراہ زبیر محمود نے بتایا کہ اس دھماکے کی آواز پورے شہر میں سنی گئی. انہوں نے کہا کہ زخمی ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ کوئٹہ پولیس چیف کا مزید کہنا تھا کہ دھماکوں کی تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا سخت سیکیورٹی میں بارود سے بھری کار حساس علاقے میں کیسے داخل ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ چند ہفتے پہلے بھی اسی علاقے میں پاکستان مسلم لیگ نون کے انتخابی امیدوار شیر گل کے دفتر پر حملہ کیا گیا تھا جس سے آس پاس کے مکانات اور دُکانوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ اس سے پہلے منگل کو کوئٹہ کے علاقوں جناح ٹاؤن اور گوال منڈی میں تین چھوٹے دھماکے بھی ہوئے جن سے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔
کوئٹہ پر گزشتہ روز ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر بلوچستان کی نگران حکومت کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ نگران ویزاعلیٰ بلوچستان نواب غوث بخش بروزئی نے سی ایم ایچ ہسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت بھی کی۔
.....
/169